Shah Mehmood Quarshi ijlas 16

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

اسلام آباد ۔ (ویب ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے لئے قانون سازی میں اور مسئلہ کشمیر پر یکساں موقف اختیار کرکے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے‘ ہم نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرکے ایف اے ٹی ایف میں بھارتی عزائم خاک میں ملا دیئے ہیں‘ موجودہ حکومت کی کوششوں سے تنازعہ کشمیر عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن چکا ہے‘ لائن آف کنٹرول کے قریب رہائشی آبادی کے تحفظ کے لئے ان کو بنکرز تعمیر کرکے دیں گے‘ بھارت جب تک گزشتہ 5 اگست کو کئے گئے اقدامات ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال نہیں کرتا اس وقت تک بھارت کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔

جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن نے ایوان میں ایف اے ٹی ایف پر قانون سازی اور کشمیر کے معاملے پر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے یہ قانون سازی ضروری تھی۔ گرے لسٹ کا تحفہ ورثہ میں ملا۔ جون 2016ءمیں پاکستان گرے لسٹ میں جاچکا تھا‘ ہم اس سے نکلنے کے لئے کوشاں ہیں۔ بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلنا چاہتا تھا۔ ہم نے بھارتی عزائم ناکام بنانے کے لئے کوششیں کیں۔ فیٹف کے اجلاس میں پاکستان کی جانب سے پیشرفت کا اعتراف کیا گیا تاہم مزید قانون سازی فیٹف کی ضرورت تھی۔ اس قانون سازی میں پاکستان مسلم لیگ اور اپوزیشن نے جو کردار ادا کیا ‘ مثبت قدم اٹھایا وہ خوش آئند بات ہے۔ جمہوری کے ارتکاءکی عکاس ہے۔ بعض جماعتیں سیاسی مفادات اور تنگ نظری سے بالاترہوکر اس کا ساتھ دیتیں تو ان کا نقصان نہ ہوتا ملک کو فائدہ ہوتا۔ تنازعہ کشمیر پر کوئی دو آراءنہیں۔

تمام حکومتوں نے مسئلہ کشمیر پر یکسوئی دکھائی۔ سیاسی سوچ جداگانہ ہونے کے باوجود سینٹ اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں متفقہ قرارداد پیش کی گئی۔ یہ ان کشمیریوں کے لئے پیغام تھا جو توقع کرتے ہیں کہ درد و کرب کی اس صورتحال میں پاکستانی عوام ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ اتحاد کا مظاہرہ کرنے پر مجلس کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ سب کو بات کرنے کی اجازت ہے۔ یہ سب کا حق اور جمہوری روایت ہے۔ اس بل کو مشاورت سے اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جس کے نتیجے میں یہ بل منظور ہوا ہے۔ ہم نے اپوزیشن پر کوئی فیصلہ مسلط نہیں کیا۔ طویل مذاکرات رات بھر جاری رہے۔

یہ متفقہ قرارداد اس عزم کا اظہار ہے کہ جو مقبوضہ کشمیر کے لوگ سننا اور دیکھنا چاہتے ہیں اس قرارداد میں وہ تمنا‘ امنگ اور آرزو ہے جو ہر کشمیری کی خواہش ہے۔ یہ قرارداد 72 سالہ تاریخ کا احاطہ ہے۔ قوم اور دنیا کے سامنے پیش کیا گیا۔ یہ مسئلہ دو سال نہیں 72 سال پرانا ہے۔ یہ مسئلہ اس وقت بھی حل طلب تھا جب دونوں بڑی جماعتوں کی حکومت تھی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ قربانیوں کی لازوال داستان ہے وہ قربانیاں رنگ لائیں گی۔ دیوار برلن گری ‘ مشرقی اور مغربی جرمنی اکٹھے ہوئے۔ ہماری نسل بھی دیکھے گی کہ عارضی لائن آف کنٹرول بھی مٹے گی۔ کشمیر بنے گا پاکستان۔ سینٹ میں کشمیر سے متعلق متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔

پاکستان کی درخواست پر چین کی وساطت سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر پر ایک سال میں تیسری بار بحث کی گئی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن میں سے کوئی بھی اس کو مسترد کر سکتا ہے خطے میں نئے اتحاد بن رہے ہیں۔ اس صورتحال میں اس مسئلہ پر بحث ہوئی۔ بھارت کی کوشش کے باوجود بحث ہوئی۔ 15 میں سے 14 ممالک نے بحث میں حصہ لیا۔ ایک سال میں یہ مسئلہ عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دوٹوک انداز میں تنازعہ کشمیر پر اپنا موقف پیش کیا۔ یورپی یونین میں اس مسئلہ پر بحث کی گئی۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارت کو کٹہرے میں کھڑا کیا گیا۔

عالمی میڈیا بھی اس معاملہ پر بھارت کا کڑا احتساب کر رہا ہے۔ امریکی کانگریس کے 85 ارکان نے مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز سلوک پر تشویش ظاہر کی۔ دارالعوام میں مسئلہ کشمیر پر بحث کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ علی گیلانی کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے مظفرآباد میں اعلان کیا کہ انہیں پاکستان کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ”نشان پاکستان “14 اگست کو دیں گے۔ کوئی کشمیری ایسا نہیں ہے جو آج بھارت کی طرف دیکھ رہا ہو۔ پورا کشمیر اور کشمیری اور تمام سیاسی جماعتیں پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر نہتے کشمیریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ متعدد پاکستانی شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔

ان واقعات کی بھرپور مذمت کی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کورونا وباءکے دوران 40 سے زائد ممالک کے وزراءخارجہ سے بات ہوئی ہے۔ انہیں ان خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا۔ جامع حکمت عملی بنا رہے ہیں۔ ہندوستان باز نہیں آئے گا۔ وہ بے دریغ فائر کرتے ہیں ان کی زد میں کون آیا ہے ہمیں سوچ سمجھ کر جواب دینا ہوتا ہے کہ کسی کشمیری کو نقصان نہ پہنچے۔ ہم صرف ان کی فوجی چوکیوں کو نشانہ بناتے ہیں‘ کنٹرول لائن کے قریب آبادیوں کو محفوظ رکھنے کے لئے بنکرز بنا کر دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری آج ہندوستان کی ناقص حکمت عملی سے متنفر ہیں۔ کشمیری نریندر مودی کی حماقتوں کے باعث متنفر ہیں۔ ان کی پالیسیوں کو مسترد کردیا ہے۔ پانچ اگست کو ملک کے قریہ قریہ میں پاکستانی کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہوئے اور نریندر مودی کی مذمت کی۔ بھارت کے سابق وزیرداخلہ چدمبرم کہتے ہیں کہ مودی تمہاری کشمیر پالیسی ناکام ہوگئی ہے۔ یشونت سنہا نے کہا کہ کشمیر پر بھارت کے موقف کو شدید دھچکا لگا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہندو توا نے بھارت کا عالمی سطح پر تشخص تباہ کردیا ہے۔ چار اگست کو کشمیر کے حوالے سے تقریب میں شرکت کیلئے قومی اسمبلی میں شہباز شریف اور بلاول بھٹو کو خطوط لکھ کر تحریری دعوت دی۔

اپوزیشن لیڈر جہاں چاہیں ان کو بریفنگ کے لئے تیار ہوں۔ ہم اس مسئلہ پر قومی اتفاق رائے رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر سول اور فوجی قیادت میں ادارہ جاتی رابطہ کے لئے ایپکس کمیٹی قائم کی گئی۔ اس حوالے سے ایک سیاسی کمیٹی بنائی گئی ہے اس کمیٹی میں اپوزیشن کو نمائندگی دی گئی ہے۔ ہم اس معاملے پر اپوزیشن سے مشاورت سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ جنگ اس مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان جذباتی فیصلے کرے لیکن ہم موقع نہیں دیں گے۔ سیاسی اور سفارتی طریقہ سے بھارتی بیانیہ کو شکست دے رہے ہیں۔ بھارت تلملا رہا ہے۔ واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ جب تک پانچ اگست 2019ءکے فیصلہ واپس نہیں لیا جاتا بھارت سے مذاکرات نہیں کریں گے۔ او آئی سی اقوام متحدہ کے بعد دوسرا بڑا فورم ہے۔

کورونا وباءکے دوران او آئی سی کے وزارتی گروپ کا اجلاس ہوا۔ اپنے اعلامیہ میں انہوں نے پاکستان کے موقف کی تائید کی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بابری مسجد کو شہید کرکے رام مندر کی بنیاد رکھی جاتی ہے تو پاکستان اس پر خاموش نہیں رہے گا او آئی سی کو بھی خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ ہر فورم پر اس معاملے کو اٹھائیں گے۔ کشمیر کے مفاد میں اپوزیشن کی مثبت تجاویز کا خیر مقدم کریں گے۔ سیاسی مجبوریوں کا احساس ہے‘ سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے تنقید کی جاتی ہے۔ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے بجائے مثبت مثبت تجاویز دیں۔ جو پاکستان کو ڈو مور کا کہتے تھے اب پاکستان کو امن پسند ملک قرار دے رہے ہیں۔ آپ عمران خان کو طالبان خان کہتے تھے‘ عمران خان مذاکرات کی بات کرتے تھے۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات عمران خان کے موقف کی جیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معیشت کھوکھلی کرکے چھوڑ کر گئے‘ بھارت ثالثی کے لئے تیار نہیں۔ وہ تیسرے ملک کی مداخلت نہیں چاہتا۔ دوطرفہ مذاکرات کی بات کرتا ہے۔ بھارت نے دوطرفہ کی بجائے یکطرفہ اقدامات کئے۔ انہوں نے کہا کہ مودی کو ویزہ کے بغیر پاکستان نہیں آنے دیں گے۔ ساڑھیوں کا تحفہ نہیں دیں گے۔ عمران خان کوئی کاروبار نہیں کرے گا‘ نہ جھکیں گے نہ بکیں گے۔

مزید خبریں پڑھیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں