PM Imran Khan Islamic 20

وزیر اعظم عمران خان کا کم آمدنی والے طبقے کو ذاتی گھر

وزیر اعظم عمران خان کا کم آمدنی والے طبقے کو ذاتی گھروں کے قابل بنانے کا تصور ملک میں ملازمت کے مواقع اور تعمیرات سے متعلقہ صنعت میں معاشی سرگرمیوں کے زبردست فروغ کا باعث

اسلام آباد ۔(نیوز ایجنسی) وزیر اعظم عمران خان کے کم آمدنی والے طبقے کو ذاتی گھروں کے قابل بنانے کے تصور نے ملک میں بڑی تعداد میں ملازمت کے مواقع اور تعمیرات سے متعلقہ صنعت میں معاشی سرگرمیوں کو زبردست فروغ دیا ہے،وزیر اعظم نے اپنے اس تصور کے مطابق تعمیرات کے شعبہ اور معیشت کی بحالی کے لئے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ہاﺅسنگ کے شعبہ کے پیکیج کا اعلان کیا ہے،

اس سے نہ صرف تحریک انصاف کی حکومت کے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے وعدے کی تکمیل ہوگی بلکہ 50 کے قریب شعبوں میں سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ وزیر اعظم نے غریب افراد کے لئے 30 ارب روپے کے پیکیج کا اعلان بھی کیا ہے اورنیا پاکستان ہاوسنگ پروگرام کے تحت بنائے جانے والے ابتدائی ایک لاکھ گھروں پر 3 لاکھ روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔اس پروگرام کے تحت 5 مرلہ گھر کی تعمیر پر بنک سے قرض پر 5 فیصد شرح سود جبکہ 10 مرلہ پر 7 فیصد کی شرح سود پر قرضے دیئے جائیں گے۔سٹیٹ بنک اور دیگر بنکوں سے کہا گیا ہے کہ وہ تعمیراتی شعبہ کے لئے 5 فیصد مختص کریں۔اس کو مزید آسان بنانے کے لئے نیا پاکستان ہاﺅسنگ اتھارٹی کے تحت تمام صوبوں میں ون ونڈو آپریشن شروع کیا گیا ہے۔

مختلف مشکلات کے ازالے کے لئے قومی رابطہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔اس کے علاوہ صوبوں میں ٹیکسز میں کمی لائی گئی ہے اور این او سی کو آسان بنایا گیا ہے۔سرمایہ کاروں کوایک بڑی رعایت دی گئی ہے کہ ان سے 31 دسمبر 2020 تک ان کی سرمایہ کاری پر آمدن کے ذرائع نہیں پوچھے جائیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے جولائی کے آغاز پر ہاﺅسنگ اور تعمیرات پر نئی بنائی گئی قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد تعمیراتی شعبہ کی بحالی کا منصوبہ بنایا۔نیاپاکستان ہاﺅسنگ سکیم کے تحت تعمیراتی سرگرمیوں پر 90 فیصد ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے۔جنرل سیلز ٹیکس کو 15 فیصد سے کم کرکے دو فیصد کیا اور تعمیراتی میٹریل پر ود ہولڈنگ ٹیکس کا خاتمہ کیا ہے۔ان حکومتی اقدامات پر نامورپراپرٹی ڈویلپر اور کاروباری شخصیت اعجازگوہر نے کہا کہ یہ پہلا منصوبہ ہے جس کے تحت کم اور متوسط آمدنی کے حامل افراد کو قابل برداشت شرح پر گھروں کی تعمیر کے لئے مورٹگیج فنانسنگ کی سہولت دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کمرشل بینک اپنے پورٹ فولیو کے پانچ فیصد کے مساوی تعمیراتی سرگرمیوں کے لئے مختص کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غیر رجسٹرڈ اور غیر روایتی معیشت میں تقریباً 20 کھرب روپے گردش کر رہے ہیں اور اب لوگوں کیلئے موقع ہے کہ 31 دسمبر 2020ءسے قبل رئیل سٹیٹ کے شعبہ میں سرمایہ کاری کر کے اپنی بڑی رقوم کو ڈکلیئر کر سکتے ہیں۔ اب 30 ہزار روپے تا ایک لاکھ روپے آمدنی والا ایک فرد مورٹ گیج فنانسنگ سے 5 فیصد شرح سود پر پانچ مرلہ کا اپنا گھر بنا سکتا ہے۔ اعجاز گوہر نے کہا کہ امریکہ میں 82 سال قبل مورٹ گیج فنانسنگ شروع کی گئی تھی تاکہ معیشت کو ترقی دی جا سکے جبکہ پاکستان ہوم مورٹ گیج فنانسنگ کے حوالے سے ترقی یافتہ ممالک سے بہت پیچھے ہے۔ تعمیرات کے شعبہ کے لئے خصوصی پیکج کے اعلان کے بعد سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے فیصلہ کیا ہے کہ بینکوں کے لئے ایک لازم ہدف کا تعین کیا جائے تاکہ ڈویلپرز اور بلڈرز کو مورٹ گیج قرضوں اور فنانسنگ کی سہولیات میں اضافہ کیا جا سکے۔

عارف حبیب کارپوریشن کے ڈائریکٹر محمد اعجاز نے ا س حوالے سے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ وہ مسائل سے گھبرا کر پیچھے نہیں ہٹی اور اس نے اپنے ہدف پر توجہ مرکوز رکھی اور مثبت انداز میں نجی شعبہ کی شراکت داری کو بھی یقینی بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مشاورت کے وسیع تر عمل کے دوران تمام شراکت داروں کو اس میں شامل رکھا، نامکمل اور ادھورے منصوبہ کو شروع کرنے کی بجائے تعمیرات کے شعبہ کے حوالے سے نئے اداروں کے قیام اور اصلاحات کا مسلسل عمل جاری رکھا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس دوران کاروباری آسانیاں پیدا کرنے اور اصلاحات کے علاوہ قوانین میں ضروری ترامیم کے ذریعے اداروں کی معاونت کی گئی جو انتہائی مثبت اقدام ہے۔ اس میں پاکستان مورٹ گیج ای فنانس کمپنی (پی ایم آر سی) کی جانب سے ای فنانسنگ کی سہولیات بھی شامل ہیں جس کے لئے عالمی بینک نے فنڈز فراہم کئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ای فنانسنگ کی سہولت سے سستے مکانات کی تعمیر اور طویل مدت کے آسان قرضوں کی فراہمی ملک میں ایک حقیقت کا روپ دھار چکی ہے۔ ہاﺅسنگ سیکٹر کے لئے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اعلان کئے گئے پیکج کی بھرپور انداز میں تعریف کی گئی ہے اور تعمیرات کے شعبہ اور رئیل سٹیٹ شعبہ کے ماہرین نے پروگرام کی کامیابی سے توقعات وابستہ کی ہیں۔ انہوں نے پیش گئی کی ہے کہ اس سے بھرپور معاشی سرگرمی شروع ہوگی اور ان کا خیال ہے کہ تعمیرات کے شعبہ کی بحالی سے یقیناً معاشی بحالی میں مدد ملے گی، روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ملک میں رہائشی مکانات کی قلت کے مسئلہ پر بھی قابو پایا جا سکے گا۔ ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد) کے چیئرمین محسن شیخانی نے پیکج کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی 70 سالہ تاریخ میں کسی بھی حکومت نے ہاﺅسنگ کے شعبہ کو باقاعدہ صنعت قرار دیا ہے۔

اس حوالے سے ہر فورم پر بات کی جا رہی ہے۔ اس اقدام سے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر اور 15 ملین روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ہدف کے حصول میں مدد ملے گی۔ محسن شیخانی نے مزید کہا کہ اگر ابتدائی طور پر حکومت 10 لاکھ گھروں کی تعمیر سے منصوبہ کا آغاز کرتی ہے تو اس سے 2.5 ملین روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور 40 تا 72 ذیلی صنعتوں کی بحالی گی۔ انہوں نے کہا کہ پیکج تعمیرات کی صنعت کے لئے انتہائی مفید ثابت ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کووڈ۔19 کی وباء سے دنیا بھر میں معاشی شرح نمو سست ہوئی ہے تاہم ہمیں یقین ہے کہ منصوبہ پر عملدرآمد سے ملک میں معاشی انقلاب برپا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تعمیرات کی صنعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کی ترقی سے نہ صرف گھروں کی قلت کے مسئلہ پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ اس سے جڑی صنعتوں کی شرح نمو میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے ہاﺅسنگ سیکٹر کو مرعات دی ہیں اور اب یہ بلڈرز، کاروباری برادری اور عام آدمی کی ذمہ داری ہے کہ ان مراعات سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے معیشت کی بہتری، غریب اور کم آمدنی والے طبقات کے لئے گھروں کی دستیابی اور روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا کرنے کی حکومتی کوششوں میں معاونت کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں