وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز 34

پاکستان نے کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لئے کامیاب حکمت عملی اختیار کی: وزارت قومی صحت

اسلام آباد : وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن نے برطانیہ کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس (ایف سی ڈی او) کی جانب سے 27 اگست کو پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سفری پابندیوں کے حوالے سے اٹھائے جانے والے خدشات پر کہا ہے کہ پاکستان میں بلاشبہ کورونا وائرس کی چوتھی لہر جاری ہے لیکن پاکستان کی حکومت نے اس وبا سے نمٹنے کے لئے کامیاب حکمت عملی اختیار کی اور ہمارے نتائج زیادہ ٹیسٹنگ والے ممالک سے کہیں زیادہ بہتر ہیں۔

آج جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ برطانوی ادارے نے اپنے نوٹ میں پاکستان کے آفیشل ڈیٹا کا حوالہ دیا جو بنیادی طور پر بھارتی (انڈین) ڈیلٹا وائرس ہے۔ حوالہ دیئے گئے بیٹا کیسز 9 اپریل 2021ءاور 7 جولائی 2021ءکے درمیان حاصل کئے گئے نمونوں میں سے ہیں، اگست 2021ءمیں زیر بحث بیٹا ویرینٹ کیسز کی شناخت نہیں ہوئی۔

وزارت قومی صحت نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے مجموعی اور مثبت کیسز کی شرح ایران اور عراق جیسے ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے جو ایمبر لسٹ میں شامل ہیں۔ 30 اگست تک پاکستان میں مجموعی ایکٹو کیسز کی تعداد 94 ہزار 573 جبکہ عراق میں 1 لاکھ 32 ہزار 699 اور ایران میں 6 لاکھ 78 ہزار 188 تھی ۔ 26 اگست تک پاکستان میں کورونا وائرس کی سات روز کے دوران مجموعی شرح 6.9 فیصد جبکہ عراق میں 18.1 فیصد اور ایران میں 32.7 فیصد رہی۔

برطانیہ جانے والے مسافروں میں ٹیسٹ کی شرح سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں اطراف کے مسافروں کیلئے زیر بحث بنیادی مسئلہ کو حل کرنے پر توجہ کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کی جانب سے حالیہ نوٹ میں تجویز کردہ حل میں تین اقدامات کا ذکر ہے جن میں ڈبلیو ایچ او کی منظور شدہ ویکسین کو لازمی قرار دینا، سفر سے 72 گھنٹے قبل پی سی آر ٹیسٹ اور پری بورڈ ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ شامل ہیں،

یہ تینوں اقدامات پر اگر مناسب طریقے سے عمل کیا جاتا ہے تو مسافروں میں وائرس کے امکانات کم کئے جا سکتے ہیں۔ وائرس فری سفر کو یقینی بنانا زیادہ موثر ہے بجائے اس کے کہ 220 ملین سے زائد آبادی والے ملک میں وبا کی پیمائش کی جائے اور اسے انفیکشن کی منتقلی کے امکان کیلئے استعمال کیا جائے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ٹیسٹنگ کی بہتر حکمت عملی اختیار کی گئی اور ان افراد پر توجہ مرکوز کی گئی جو کلینیکل علامات، کونٹیکٹ ٹریسنگ اور مخصوص ایپڈمیولوجک رسک سے دوچار ہیں۔

قابل غور بات یہ ہے کہ اینٹی جن ٹیسٹ کی بجائے پی سی آر ٹیسٹ کو دیگر ممالک نے کثرت سے استعمال کیا۔ اس حکمت عملی کا مجموعی اثر وبائی مرض کے شروع ہونے سے لے کر اب تک کامیابی سے نمٹنے کی حکمت عملی سے واضح ہے جسے کئی سطحوں پر تسلیم کیا گیا ہے اور ہم نے زیادہ ٹیسٹنگ کرنے والے مقابلے میں بہتر نتائج حاصل کئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں