منصوبہ اورنج لائن ٹرین 14

عوامی سہولت کا منصوبہ اورنج لائن ٹرین حکومت کیلئے چیلنج بن گیا

لاہور : نااہلی، غفلت اور عدم توجہی کا نتیجہ، عوامی سہولت کا منصوبہ اورنج لائن ٹرین سفید ہاتھی بن گیا، بڑھتے خسارے اور بار بار کی بندش کے سبب واجب الاد سالانہ قرض 15 سے 16 ارب ہو گیا۔

ذرائع کے مطابق اورنج لائن ٹرین کیلئے چین سے لیے گئے 165 ارب روپے کے قرض کی واپسی کیلئے تیاریاں جاری ہیں لیکن اس کی ایک قسط 15 سے 16 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، پنجاب حکومت کے اندرونی اور بیرونی قرضہ جات میں اتار چڑھاؤ سے اورنج لائن ٹرین کی قسط میں اضافہ ہوا۔

زرائع کے مطابق اورنج لائن ٹرین کی پہلی قسط پندرہ ارب روپے تھی جس میں اب ایک ارب روپے کا اضافہ ہوا، پنجاب حکومت قرض کی ادائیگی آئندہ نئے مالی سال 2023-24ء سے شروع کرنے جارہی ہے جس سے صوبائی خزانے پر اضافی بوجھ پڑے گا۔ واضح رہے کہ اورنج لائن ٹرین پر حکومت سالانہ 8 ارب روپے سے زائد کی سبسڈی دے رہی ہے جبکہ آمدن آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں