Ready to discuss all issues except corruption 12

کرپشن کے سوا تمام معاملات پر بات چیت کے لئے تیار ہیں: وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد

اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ میری خواہش ہے کہ درمیانی راستہ نکلے تاہم اگر اپوزیشن استعفے دینا چاہتی ہے تو شوق سے دے، پیپلز پارٹی کو سیاست میں بہتر پوزیشن میں دیکھ رہا ہوں، بلاول کی استعفوں کا ایٹم بم چلانے کی دھمکی پھلجھڑی ہو گی، یقین ہے شہباز شریف مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنے کی بات کریں گے، کچھ سیاستدان چاہتے ہیں کہ جمہوریت بند گلی میں داخل ہو جائے۔

بدھ کو ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز کے دورہ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق وزارت داخلہ نے بہتری کی ہے اور مزید کرے گی۔وزیر داخلہ نے کہا کہ شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی کل ملاقات ہوئی ہے اور بلاول نے استعفوں کا ایٹم بم چلانے کی دھمکی دے دی ہے لیکن مجھے یقین ہے وہ پھلجھڑی ہوگی کیونکہ پیپلزپارٹی جمہوری عمل پر یقین رکھتی ہے اور اس نے ہمیشہ جمہوری عمل کو سپورٹ کیا۔ تاہم کچھ لوگ انتہائی قدم اٹھانا چاہتے ہیں تاکہ جمہوریت بند گلی میں داخل ہوجائے اور خدانخواستہ جمہوریت کو کوئی خطرات لاحق ہوجائیں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اگر اسلام آباد آنا چاہتی ہے تو شوق سے آئے، انہوں نے فروری میں لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے بہتر ہے وہ اس سے پہلے ہی آجائیں،ہم نے بھی یہاں 126 دن پڑائو ڈالا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے استعفے پارٹی صدر کو دینے ہیں اور مسلم لیگ(ن)کا پارٹی صدر شہباز شریف ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ وہ مثبت سوچ کے ساتھ سیاست کو آگے لے جانے کی بات کریں گے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیراعظم نے واضح کہہ دیا ہے کہ ہم کرپشن کے سوا تمام معاملات پر بات چیت کے لئے تیار ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایگزیٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں 400 لوگوں کے نام ہیں جنہیں کم کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ بلیک لسٹ میں بھی ہزاروں لوگوں کے نام ہیں انہیں بھی کم کرنے کا کہا ہے،بلاوجہ ان فہرستوں میں نام نہ رکھا جائے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امیگریشن میں 3 سال سے زیادہ ایک عہدہ پر رہنے والے کا تبادلہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں مختلف قسم کی شکایات ہیں اور ایف آئی اے کو فنڈز کی ضرورت ہے جس پر میں فوری طور پر 2 ارب روپے دینے کا اعلان کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو سیاست میں بہتر پوزیشن میں دیکھ رہا ہوں جبکہ جس شہباز شریف کو میں جانتا ہوں وہ مذاکرات کا حامی ہیں، آج کے شہباز شریف کا نہیں پتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ استعفے دینا چاہتے ہیں تو وزیراعظم نے واضح کہا ہے کہ شوق سے دیں،وہ جب آنا چاہیں آئیں تاہم میں یہ چاہتا ہوں کہ کوئی درمیانی راستہ نکلے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے جلسے میں جو کچھ کہا وہ تقریریں ہیں۔انہوں نے کہا کہ حالات بہتر ہوں گے اور عمران خان 5 سال پورے کریں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں