Minar Pakistan incident 29

مینار پاکستان واقعے کے ملزم ریمبو کی ویڈیو بنانے پر 4 پولیس اہلکار گرفتار

لاہور : آئی جی پنجاب راؤ سردار نے مینار پاکستان واقعے کے مرکزی ملزم عامر سہیل عرف ریمبو کی ویڈیو وائرل ہونے کا نوٹس لے لیا۔ پولیس نے ذمہ دار 4 اہلکاروں کے خلاف 155 سی کے تحت مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کرلیا۔

ایف آئی آر میں انچارج انویسٹی گیشن، مہرر انویسٹی گیشن، محرر آپریشن اور ڈرائیور انویسٹیگیشن لاری اڈا کو نامزد کیا گیا ہے۔ نئے تعینات ہونے والے انچارج انویسٹی گیشن حسن عسکری کی جانب سے تمام نامزد ملزمان کو گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں ریبمو نے مزید انکشافات کیے کہ اس کی اور عائشہ کی منظر عام پر آنی والی ویڈیو اور تصاویر ایک سال پرانی ہے، نازیبا ویڈیوز میں لڑکی کی رضا مندی کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا، عائشہ نے مقدمے میں گرفتار فی ملزم سے 5 لاکھ روپے لینے کا کہا تھا، میں نے عائشہ سے کہا کہ پیسوں کے پیچھے نہ بھاگو اپنے کیس کے پیچھے بھاگو، عائشہ نے مجھے بلیک میل کیا اور کہا کہ اگر بات نہ مانی تو جیل بھجوا دوں گی، اس نے راتوں رات مجھ پر ایف آئی آر کروادی۔

لاہور کی عدالت میں ملزم ریمبو سمیت ملزمان کے جسمانی ریمانڈ پر سماعت ہوئی۔ پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ ہاٸی پروفاٸل معاملہ ہے جس کی بازگشت پوری دنیا میں سنی گٸی ، عدالت تفتیش مکمل کرنے کے لیے جسمانی ریمانڈ دے ، ہم چاہتے ہیں کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو، ملزمان سے مختلف ویڈیوز اور دیگر چیزیں برآمد کرنی ہیں۔

ملزمان کے وکیل نے کہا کہ ملزمان تو ہمیشہ ٹک ٹاکر عائشہ اکرام کے ساتھ رہے، ویڈیوز موجود ہیں کہ ریمبو سمیت دیگر نے ٹک ٹاکرکی جان بچاٸی۔عدالت نے ریمبو سمیت ملزمان کے جسمانی ریمانڈ پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں