Chief Traffic Officer visit traffic system 12

چیف ٹریفک آفیسر کا ٹریفک نظام کا جائزہ لینے کیلئے اندرون شہر کا دورہ

سٹی ٹریفک پولیس پشاور کے افسران اور اہلکار چیک اینڈ بیلنس رکھیں اورکسی کے ساتھ کوئی نرمی نہ برتی جائے۔چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید خان مروت

پشاور(نمائندہ عمر فاروق)چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید خان مروت نے ٹریفک نظام میں مزید بہتری لانے اور تجاوزات مافیا کیخلاف کی جانیوالی کارروائیوں کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے گزشتہ روز اندرون شہر کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران ڈی ایس پی ٹریفک زکاء اللہ سمیت دیگر افسران اور اہلکار بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ اندرون شہر کابلی گیٹ’ شاہ قبول’ باجوڑی’ آسیہ’ سرکی گیٹ ‘کوہاٹی گیٹ ‘ یکہ توت ‘ گنج گیٹ ‘لاہوری گیٹ سمیت بازاروں کا پیدل دورہ کیا اور تجاوزات کے خلاف کی جانیوالی کارروائیوں کا جائزہ لیا اور ٹریفک حکام و اہلکاروں کو ہدایات جاری کیں

چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید خان مروت نے تجاوزات کے خلاف آپریشن اور شہر میں ٹریفک روانی یقینی بنانے کے لئے اطمینان کا اظہارکیا اور ٹریفک حکام کو ہدایت کی کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر تجاوزات مافیا کے خلاف کارروائیاں کریں تاکہ شہریوں کو کسی قسم کے مشکلات درپیش نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک عملہ فٹ پاتھوں کو تجاوزات مافیا سے واگزار کرائیں تاکہ پیدل چلنے والوں کو بھی کسی قسم کے مشکلات درپیش نہ ہوں اس سلسلے میں کسی کے ساتھ نرمی نہ برتی جائے۔

چیف ٹریفک آفیسر عباس مجید خان مروت نے کہا ہے کہ تجاوزات مافیا کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں جاری رہیں گی اس سلسلے میں تاجر برادری سٹی ٹریفک پولیس پشاور کے ساتھ تعاون کریں تاکہ شہر کی خوبصوررتی کو یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر شہر میں شہریوں کی سہولت کیلئے لگائے جانیوالے ٹائر برسٹرز کی دیکھ بھال کریں اور سٹی ٹریفک پولیس پشاور کے اہلکار متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر اس کی صفائی یقینی بنائیں ۔

انہوں نے کہا کہ سٹی ٹریفک پولیس پشاور کے حکام تجاوزات مافیا کے خلاف آپریشن کرنے کے بعد چیک اینڈ بیلنس رکھیں تاکہ تجاوزات مافیا دوبارہ اپنے حدود سے تجاوز نہ کریں جبکہ مرتکب افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے کہا کہ نو پارکنگ زون میں گاڑیاں کھڑی کرنا نا قابل برداشت ہے کیونکہ اس سے ٹریفک کا نظام متاثر ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سٹی ٹریفک پولیس کا عملہ شہر بھر میں ٹریفک قوانین اور تجاوزات کے خاتمے کیلئے آگاہی کا سلسلہ جاری رکھیں کیونکہ اس کے بہتر نتائج سامنے آرہے ہیں.





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں