Madiha's bail rejected in High Court 30

کم سن گھریلو ملازمہ پر تشدد کیس میں مدیحہ نامی ملزمہ کی ضمانت ہائیکورٹ سے خارج

فیصل آباد ( شہزاد حسن ) : کم سن گھریلو ملازمہ پر تشدد کیس میں مدیحہ نامی ملزمہ کی ضمانت ہائیکورٹ سے خارج
ایڈن ویلی میں مدیحہ نامی پرائیویٹ سکول مالکن کی جانب سے دس سالہ گھریلو ملازمہ ارم کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ملازمہ کے جسم کو استری اور گرم چھری سے جلایا گیا

محسن رضا ملک ایڈووکیٹ فوکل پرسن چائلد پروٹیکشن اینڈ ویلفئیر بیورو کے مطابق واقع کی اطلاع ملنے پر سارہ احمد سپیشل کوآرڈینیٹر وزیر اعلی پنجاب اور چئیرپرسن پنجاب چائلڈ پروٹیکشن ویلفئیر بیورو نے واقع کا سخت نوٹس لیا اور چائلڈ پروٹیکشن آفیسر روبینہ اقبال چیمہ کی مدعیت میں تھانہ مدینہ ٹاون میں جون 2021 میں مقدمہ درج کروایا گیا جس پر ملزمہ مدیحہ نے سپیشل جج چائلڈ پروٹیکشن کورٹ ظفر اقبال تارڈ کی عدالت سے عبوری ضمانت کے لئے رجوع کیا

خصوصی عدالت میں محسن رضا ملک ایڈووکیٹ اور لاء آفیسر عادل گوندل نے عدالت کو بتایا کہ متاثرہ بچی کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق بچی کو بے دردی سے جگہ جگہ سے جلایا گیا ہے ملزمہ ضمانت کی مستحق نہیں ہے،جس پر سپیشل کورٹ نے ملزمہ کی درخواست ضمانت خارج کر دی تھی بعدازاں ملزمہ نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کر رکھی تھی

جسٹس طارق سلیم شیخ کی عدالت میں دوران سماعت چائلد پروٹیکشن بیورو کی جانب سے لاء آفیسر عادل گوندل نے عدالت کو بتایا کہ کم سن بچی کو ملازم رکھنا اور اس پر بہیمانہ تشدد کرنا چائلد پروٹیکشن لاء کے مطابق سنگین جرائم ہیں عدالت نے یہ ریمارکس دیتے ہوئے درخواست ضمانت خارج کر دی کہ اگر ایسے ملزمان کو رعائت دیں گے تو واقعات میں کمی نہیں ہو سکتی





Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں