شہرقائد میں ٹرانسپورٹ کا بد ترین نظام 18

شہرقائد میں ٹرانسپورٹ کا بد ترین نظام، شہری بسوں کی چھتوں پر سفر کرنے پر مجبور

کراچی : شہرقائد میں ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر بنانے کے بہت دعوے کئے گئے مگر اس شعبے میں بہتری نہ لائی جا سکی۔ شہری آج بھی بسوں کی چھتوں اور چنگ چی رکشوں پر سفر کرنے پر نہ صرف مجبور ہیں۔

ملک کے سب سے بڑے شہر میں ٹرانسپورٹ کا بد ترین نظام، برسوں سے میٹروپولیٹن شہر کے لوگ ٹوٹی پھوٹی منی بسوں کی چھتوں پر سفر کر رہے ہیں اور کب تک کرتے رہیں گے معلوم نہیں کیونکہ پیپلز بس سروس پروجیکٹ کے تحت رواں سال دسمبر میں نئی بسیں آنے کی امید دم توڑنے لگی۔

نئی بسوں کے لئیے 8 ارب مختص اور 5 ارب روپے جاری کر دئیے گئے لیکن بسوں کے ٹینڈر کے لئے تاریخ پر تاریخ، 8 مئی کو نئی بسوں کے ٹینڈر کے لئے اشتہار شائع کیا گیا۔ کمپنیز کے لئے کوائف جمع کروانے کی تاریخ پہلے 5 جولائی رکھی گئی جو بعد میں 30 جولائی اور اب 17 اگست تک بڑھا دی گئی۔

لیکن پیپلز پارٹی چئیرمین اب بھی پر امید ہیں کے رواں سال نئی بسیں کراچی پہنچ جائیں گی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کراچی میں بہتر ٹرانسپورٹ نظام اب خواب میں بھی نظر نہیں آتا۔ پیپلز بس سروس پروجیکٹ کے تحت سندھ حکومت نے 250 بسوں کی خریداری کرنی ہے۔ کچھ بسوں کو کراچی کے مختلف روٹس پر جبکہ کچھ کو سندھ کے دیگر اضلاع میں دوڑنا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں