latest urdu columns 23

پاکستان لینڈ مافیا کے شکنجوں میں

پاکستان دنیا کا وہ واحدملک بن چکا ھےجہاں پر لینڈمافیا ریاست پر بھاری پڑچکا۔ اس میں المیہ یہ بھی ھے کہ ہمارے معزز قابل فخر اور ہر دلعزیز ایسے بھی ادارے ہیں جو قوم کی آنکھوں کا تارا ھیں ان سے دانستہ نادانستہ کہیں کہیں کوتاہی ضرور ھوئی ہیں۔ سوائے پیغمبر اصحاب کرام اولیاء کرام کے علاوہ کوئی صادق و امین نہیں یقیناً فیصلے اور ذمہ داریاں عائد کرتے ھوئے شخصیت میں کوتاہی رہی ھونگی لیکن ان معزز ادارے کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا ہے انکی نیت ہمیشہ صاف اور نیک ھوتی ھے۔۔۔۔۔۔معزز قارئین!! میرے اکثرکالم صحافی حضرات سمیت میڈیا ملازمین کی ڈاؤن سائزنگ سے معاشی قتل ھونے والوں کی دادرسی نہ کرنے اور ان کے ساتھ کھڑے ھوکر قانون کے دروازے کو نہ کھٹکھٹانے اور حکومتی وزراء و مشیر کی جانب سے خاموش رہنا اور میڈیامالکان کی مسلسل غیر قانونی عوامل اور بلیک میلنگ پر حکومت, پیمرا کا رد عمل نہ کرنے پر لکھتا چلا آرہا ھوں۔ پی ایس ایل ھو یا ان کے دیگر پھیلے ھوئے کاروبار کا نہ کبھی احتساب کیا گیا نہ آڈٹ گویا میڈیا انڈسٹری کے مالکان کو مادر پدر آزاد رکھا گیا ھے,

میڈیا کو اپنے سیاسی و ذاتی مخالفین کیلئے ایک آلہ بنا کر رکھ دیا خود میڈیا مالکان کی منفی غیر آئینی غیر قانونی سرگرمیوں پر خاموش رہنا کس پاکستان کی عکاسی پیش کررہے ہیں, ہمارے دشمن تو چاہتے ہی یہاں یہ سب ھو افراتفری انکارکی کرپشن لوٹ مار آئین و قانون کی دھجیاں اقربہ پروریاں تعصب و استحصال آج دشمن کی ایماء و خواہشات کے مطابق بااختیاروں نے کرکے دکھا ڈالا ھے بس عوام ہی نا پسندیدگی کا اظہار شوشل میڈیا پر کررھی ھے اور دشمن کو بآور کررہی ھے کہ قائداعظم محمد علی جناح کے پاکستان سے لینڈ مافیا کا خاتمہ لازمی بنائیں گے اور ان کے سہولتکاروں کو بے نقاب کرکے انکی حدود یاد دلائیں گے سپریم کورٹ کو احساس بیدار کرینگے کہ آپ تمام جسٹس صاحبان سمیت ہر کورٹ کے ججز کو بھی مرنا ھے ایسے فیصلے مت کیجئے گا جو چند روزہ زندگی کے عیش کیلئے تو ھوں لیکن ابدی زندگی جہنم بن جائے اور وہ جو روز شہادت کا جذبہ لیئے دشمن سے نبردآزما ہیں آپ اور آپ کے مقدس اداروں کو چاہئے کہ وہ قائداعظم کے پاکستان کو کھوکھلا کرنے والے لینڈ مافیا کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کرکے انکے عزائم خاک میں مٹادیں۔۔۔۔۔۔

معزز قارئین!! میرے ایک قاری خرم نے مجھے بتایا کہ ‏کراچی سے حیدرآباد جاتے ہوئے ٹول پلازہ کے بعد سپر ہائی وے کے بائیں طرف لینڈ مافیا ملک ریاض نے پاکستان پیپلزپارٹی, پاکستان رینجرز, سندھ پولیس بلخصوص راؤانوار کی معاونت سے انیس ہزار ایکڑ زمین پر قبضہ کرکے بحریہ ٹاؤن کراچی بنایا جو اڑتیس بائی اڑتیس کلومیٹر طویل یعنی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بھی چودہ کلومیٹر بڑا ہے، ‏اسی بحریہ ٹاؤن کے بالکل سامنے یعنی کراچی سے حیدرآباد جاتے ہوئے سپرہائی پر دائیں طرف فوج نے بارہ شہید سپاہیوں کے نام پر انیس ہزار ایکڑ یعنی اڑتیس بائی اڑتیس کلومیٹر زمین پر قبضہ کرکے ڈی ایچ اے فیز نائن بنالیا، جن شہید سپاہیوں کے نام پر زمین ہتھیائی گئی ان کے لواحقین کو یہاں ایک انچ جگہ نا ملی، ‏ظلم یہ ہے کہ بحریہ ٹاؤن کی زمین کی قیمت سندھ کے سرکاری کاغذات میں ساٹھ کروڑروپے درج ہےجبکہ یہاں کی فائلیں لینڈ مافیا ملک ریاض نے تقریباً تین ہزار ارب، جی ہاں تین ہزار ارب میں بیچ بھی دیں اور سپریم کورٹ نے لینڈ مافیا ملک ریاض کو فقط چار سو ساٹھ ارب جرمانہ وہ بھی دس سال میں ادا کرنے کو کہا، شنید ہے کہ وفاقی حکومت نے خود کورٹ سے درخواست کی ہو کہ ملک ریاض ایک غریب انسان ہے، مہربانی فرما کر انہیں جرمانے کی قسطیں ادا کرنے کیلئے کچھ سالوں کی مہلت دی جائے،‏دوسری جانب ڈی ایچ اے فیز نائن کی مارکیٹنگ کیلئے فوج کے ایک لے پالک میڈیا گروپ اے آر وائی کو ہائر کیا گیا،انہیں کچھ زمین دی گئی جس پر وہ اےآروائی “لگونا” بنارہے ہیں جس کی اشتہاری مہم آج کل بڑے زور و شور سے جاری ہے،

یہاں جتنا پانی دکھایا جارہا ہے وہ سب کینجھر جھیل کا ہے,‏کینجھر جھیل انگریزوں نے بنائی تھی یہ مصنوعی جھیل کراچی کو پانی کی فراہمی کا سب سے بڑا ذریعہ تھی، اب یہاں کا پانی فقط بحریہ ٹاؤن کے ناچتے فواروں اور ڈی ایچ اے فیز نائن میں اے آر وائی لگونا میں کشتیاں چلانے اور سوئمنگ پول میں نام نہاد یورپی ماحول فراہم کرنے کیلئے ہے جبکہ کراچی کے شہری پینے کے پانی کو بوند بوند ترس رہے ہیں، کراچی میں بائیس غیر قانونی ہائیڈرینٹس سےٹینکر کے ذریعہ پانی بیچا جاتا ہے، یہ ہائیڈرینٹس اور ٹینکرکون چلا رھا ھے آپ سب جانتے ہیں اور یہ خوب کمارہے ہیں، یہ کراچی میں تقریباًایک سو پچاس کے قریب مختلف دھندوں میں سے ایک دھندا ہے۔ ‏کراچی کے حصے کا پانی لینڈ مافیاز بحریہ ٹاؤن اور ڈی ایچ کے فیز نائن کو گیا، بجلی اور گیس بھی انہی مافیاز کو دیدی گئی، کراچی کو مکمل اور عملی طور پر کھنڈر بنایا جارہا ہے، دنیا کے سو سے زائد ملکوں سے بڑا کراچی تباہی کےدہانے پر ہے لیکن پورے پاکستان کا ستر فیصد ٹیکس دینے والے کراچی کے عوام مجبور اور مظلوم بنے ہوئے ہیں۔۔۔۔

معزز قارئین!! راولپنڈی اسلام آباد سے شروع ھونے والا لینڈ مافیا بد نام زمانہ ملک ریاض نے پنجاب کے کئی شہروں پر قبضہ کرتے ھوئے سندھ کے بھی شہروں کو اپنی ناجائز دولت کے بل بوتے پر انسانوں سے ان کا ضمیر خریدا تو بیشتر دیہاتیوں سے ان کی زمینیں خریدیں جن میں اکثر جبرأ اور کہیں مجبوراً سستے داموں لیں اور یہی عمل وفاق و صوبائی حکومتوں کو بھاری بھاری رشوت کیساتھ انتہائی سستے داموں سرکاری زمینوں کا بھی سودا کیا گیا مگر انہی زمینوں کو کئی ہزار گنا فروخت کیں جس میں جہاں میڈیا مالکان بھی جرم کے مرتکب ھوئے وہیں حکومت اور معزز و مقدس اداروں ریٹائرڈ افسران بھی۔ میرے کئی ریٹائرڈ افسران دوست ہیں انھوں نے بتایا کہ ہم تا حیات فرائض منصبی پر رہتے ہیں کسی بھی ہنگامی صورت حال پر بلایا جاسکتا ھے اسی لیئے کوئی بھی افسر تا دم مرگ وطن اور عوام کے خلاف یا نقصان کا خوابوں میں بھی نہیں سوچ سکتا ھے۔

ہمارے ریٹائرڈ افسران کو ملازم رکھ کر ملک ریاض ان سے کبھی بھی غیر قانونی عمل میں شامل نہیں کرسکتا ممکن ھے وہ دو نمبری کام کیلئے کسی اور چینل سے کراتا ھو یا کوئی اور لنک استعمال کرتا ھو سوچنے کی بات یہ ھے کہ حکومت کیوں زمینیں پاس کرتی رہیں۔ وزراء و مشیر کیوں اجازت دیتے رہے۔ پاکستان کےملک ریاض, آصف زرداری اور لینڈ مافیا کے بادشاہ بن چکے ہیں جبکہ لینڈ میں سلمان اقبال کا نام بھی آرہا ھے کیا ان تینوں شخصیات کا محاسبہ کیا جائیگا کیا ان کی دولت و ذرائع آمدن کا آڈٹ کیا جائیگا پاکستان کے قانون اور آئین ان شخصیات کے سامنے بے بس لاچار کمزور ہیں کیا یہ قانون سے مبرا ھیں یہ ہیں سوالات جن کا جواب عوام چاہتے ہیں موجودہ عوامی حکومت اور مدینہ ثانی ریاست کے وزیراعظم جناب عمران خان صاحب اور صدر مملکت جناب عارف علوی صاحب اور آرمی چیف جناب قمر جاوید باجوہ صاحب سے جو آئین اور پاکستان کے ساتھ کھڑے ھوئے ہیں ۔۔۔۔!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں