ہسپتال سے زبردستی ڈسچارج کرنے پر مریض جاں بحق، لواحقین کا احتجاج 39

ہسپتال سے زبردستی ڈسچارج کرنے پر مریض جاں بحق، لواحقین کا احتجاج

لاہور : جنرل ہسپتال میں انتظامیہ کی مبینہ غفلت سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا، لواحقین نے ایمرجنسی کے باہر احتجاج ریکارڈ بھی کرایا اور وزیراعلیٰ پنجاب سے انصاف کا بھی مطالبہ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کے مشہورجنرل ہسپتال میں مسیحا ہی مریضوں کی جان لینے لگے، انتظامیہ کی مبینہ غفلت سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا،

جنرل ہسپتال میں ڈاکٹرز کی غفلت سے جاں بحق مریض کے بیٹے نے بتایا کہ رات کو والد کی طبیعت شدید خراب ہونے پر جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی لائے، ڈاکٹر نے دو گھنٹے بعد یہ کہ کر ڈسچارج کردیا کے طبیعت اب بہتر ہے گھر لے جائیں، ہم نے کہا کہ والد کی طبیعت بہت خراب ہے ،آپ ان کو ڈسچارج نہ کریں لیکن ڈاکٹر نے کہا بیڈ کی قلت ہے گھر لے جائیں۔

ہم لوگ ایک گھنٹہ ایمرجنسی کے باہر والد کو سڑیچر پر لٹا کر انتطار کرتے رہے کہ شاید یہ لوگ داخل کرلیں، ایک گھنٹے بعد مایوس ہوکر واپس گھر جانے لگے تو راستے میں والد کی طبیعت مزید خراب ہوگئی، اور وہ راستے میں ہی وقت دم توڑ گئے ۔

ہماری وزیراعظم اور وزیراعلی ٰ سے اپیل ہے کہ ہمیں انصاف دیں، ہسپتال انتظامیہ نے واقعے کو افسوسناک قرار دے دیا، ڈی ایم ایس ایمرجنسی ڈاکٹر جنید امجد نے کہا کہ پرنسپل جنرل ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر الفرید ظفر نے واقعے کا سختی سے نوٹس لیا اور 4 افراد پر مشتمل کمیٹی بنا دی ہے جو 72 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرئے گی۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق جو بھی اس واقعے میں ملوث پایا گیا اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں