Approval to set up Information Commission in Free Zone: Mirpur Azad Kashmir 45

آزاد خطہ میں انفارمیشن کمیشن کا قیام عمل میں لانے کی منظوری:میرپورآزاد کشمیر

میرپور(محمد سلیم چوہدری )آزاد جموں وکشمیرکابینہ نے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے نفاذ کے تحت معلومات تک رسائی کے لئے آزاد خطہ میں انفارمیشن کمیشن کا قیام عمل میں لانے کی منظوری دے دی ہے جس کے اطلاق کے بعد شہری تمام محکمہ جات کے حوالہ سے معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں گے اور محکموں کی جانب سے عدم تعاون پر وہ انفارمیشن کمیشن میں اپنی شکایت درج کروا سکیں گے،

تفصیللات کے مطابق آزاد کشمیر کابینہ کا اجلاس وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں آزاد کشمیر میں رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے نفاذ کے تحت معلومات تک رسائی کے لئے آزاد خطہ میں انفارمیشن کمیشن کا قیام عمل میں لانے کی منظوری دے دی ہے جس کے اطلاق کے بعد شہری تمام محکمہ جات کے حوالہ سے معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں گے اور محکموں کی جانب سے عدم تعاون پر وہ انفارمیشن کمیشن میں اپنی شکایت درج کروا سکیں گے اور انفارمشن کمیشن کی جانب سے بھی عدم تعاون پر وہ پارلیمانی کمیٹی کو اپنی شکایت درج کرا سکییں گے جو اس کا ازالہ کرنے کی مجاز ہو گی تمام محکمہ جات اس حوالہ سے اپنا اپنا فوکل پرسن مقرر کریں گے جب کے محکمہ اطلاعات پرنسپل انفامیشن آفیسر اور انفامیشن کمیشن کے دو ممبران کا تقرر کرے گا کمیشن کو اختیار ہو گا کے وہ ایکٹ کی روشنی میں معلومات فراہم نہ کرنے والے محکمہ اور آفیسران کے خلاف کروائی کرے اور کمیشن کو یومیہ 100 روپے سے 10ہزارروپے تک جرمانہ کرنے کا اختیار ہو گا۔

قبل ازیں گزشتہ سال ماہ جون میں 13ویں آئینی ترمیم کے تحت عبوری آئین 1974ء کے آئینی تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے حکومت اور قانون ساز اسمبلی سے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے نفاذ اور قواعد و ضوابط مرتب کر کے سرکاری اداروں میں متعلقہ تقرریوں سمیت انفارمیشن کمیشن /ٹریبونل بنانے کیلئے ہائیکورٹ میرپور سرکٹ میں دائر رٹ پٹیشن ظفرمغل وغیرہ بنام آزاد حکومت وغیرہ باقاعدہ سماعت کیلئے منظورہو کر حکومت آزاد کشمیر سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری ہو چکے ہیں اس رٹ میں موقف اختیار کیا گیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر آف ڈیمانڈ1948ء کے تحت آزادی حق رائے اور درست معلومات تک رسائی کا حق بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم شدہ ہے جسے آئین پاکستان 1973ء میں بھی 19، اے اور آزاد جموں وکشمیر کے عبوری آئین 1974ء میں بھی 13 ویں آئینی ترمیم 2018ء کے پیراگراف 22آرٹیکل 4 میں رائٹ ٹو انفارمیشن کو بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

مگر آزاد خطہ کی موجودہ حکومت اور قانون سازاسمبلی آئینی تقاضوں کے تحت وضع کردہ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کی آئینی ضرورت کو اس کی حقیقی روح کے مطابق نافذ کرکے انفارمیشن ٹربیونل /کمیشن کے قیام اور سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں پبلک انفارمیشن آفیسر کی تقرریاں نہیں کر سکی ہے۔ جس کے پیش نظر نیشنل یونین آف جرنلسٹس پاکستان کے مرکزی سینئر نائب صدر اور کشمیر پریس کلب میرپور کے سابق سیکرٹری جنرل سینئرتحقیقاتی صحافی وتجزیہ کار ظفرمغل کی طرف سے آزاد کشمیر کے معروف متحرک قانون دان قاضی عدنان قیوم نے رائٹ ٹوانفارمیشن کے نفاذ کیلئے آزادکشمیر ہائیکورٹ میرپور سرکٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی جسے ہائی کورٹ میرپور سرکٹ میں ووکیشن جج جسٹس محمد شیراز کیانی نے ابتدائی سماعت کے بعد باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کررکھے ہیں۔

رٹ میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وفاقی سطح پر آئین پاکستان 1973ء کے آرٹیکل 19 اے کے تحت فیڈرل رائٹ آف ایکسیس ٹوانفارمیشن ایکٹ2017ء صوبائی سطح پر سندھ ٹرانسپرنسی اینڈ رائٹ ٹوانفارمیشن ایکٹ 2016ء پنجاب ٹرانسپرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ2013ء بلوچستان رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ2015ء اور کے پی کے رائٹ ٹؤ انفارمیشن ایکٹ 2013ء نافذ العمل ہیں جبکہ آزادخطہ میں عبوری آئین 1974ء میں رائٹ ٹو انفارمیشن کو بنیادی حق کے طور پر تسلیم کرنے کے باوجود اس کے عدم نفاذ سے عوام بلخصوص صحافیوں اور وکلاء کودرست معلومات تک رسائی اور انہیں عوام الناس تک پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے

جس سے آئینی وقانونی تقاضے بھی آئین کی حقیقی روح کے مطابق پورے نہیں ہو رہے ہیں۔ جبکہ سرکاری و نیم سرکاری اداروں کے ذمہ داران بھی آئین کے منافی رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے عدم نفاذ باعث اکثر و بیشتر لیت و لعل کرتے ہوئے اپنے اداروں سے متعلق درست معلومات کی فراہمی سے انکاری ہوتے ہیں جس کے نتیجہ میں خصوصاً تحقیقاتی صحافت سے وابستہ صحافیوں کو درست معلومات تک رسائی ممکن نہ ہونے سے عوام بھی درست معلومات بارے آگاہی سے محروم رہتے ہیں جس پر عوامی اہمت کے تمام معاملات میں آئین و قانون کے تحت درست معلومات تک رسائی اور رائٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں