Statement of Dr. Abdul Hafeez Sheikh 19

پاکستان ٹیکس چوری اورغیرقانونی مالیاتی ترسیل کے خلاف جنگ میں پرعزم ہے، ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ

اسلام آباد ( ویب ڈیسک ) وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاہے کہ پاکستان ٹیکس چوری اورغیرقانونی مالیاتی ترسیل کے خلاف جنگ میں پرعزم ہے، ٹیکس کی ریکوری میں پاکستان کوکراس بارڈر بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے، پاکستان کی معیشت میں ابھاردیکھنے میں آرہاہے، پائیدارترقی کا حصول حکومت کا ہدف ہے۔ انہوں نے یہ بات ”ٹیکس کے مقاصدمیں شفافیت ومعلومات کاتبادلہ“ کے موضوع پرگلوبل فورم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ فورم کا انعقادتنظیم برائے اقتصادی تعاون وترقی (اوای سی ڈی) نے کیاتھا،

ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاکہ پاکستان نے ٹیکس مقاصد کے حصول میں شفافیت اورمعلومات کے تبادلہ میں اہم سنگ میل عبورکرلیاہے۔انہوں نے گلوبل فورم اوربرطانیہ کی حکومت کی جانب سے تکنیکی تعاون کی فراہمی کی تعریف کی اورکہاکہ اس تعاون کی وجہ سے کامن رپورٹنگ سٹینڈرڈ کااطلاق ممکن ہوسکاہے، پاکستان اس وقت ان اولین ممالک میں شامل ہے جنہوں نے کامن رپورٹنگ سٹینڈرڈ کااطلاق اوردوسال سے کم عرصہ میں شراکت داروں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ بھی کیا ہے ۔ وزیراعظم کے مشیرنے کہاکہ ٹیکس کے اطلاق وتعمیل میں شفافیت اورمعلومات کے تبادلہ کوکلیدی حیثیت حاصل ہے۔ پاکستان ٹیکس چوری اورغیرقانونی مالیاتی ترسیل کے خلاف جنگ میں پرعزم ہے، ٹیکس کی ریکوری میں پاکستان کوکراس بارڈر بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے،

انہوں نے فورم کے شرکاءکورونا وائرس کی عالمگیروبا کے منفی اثرات اورقومی معیشت وکمزورطبقات پراس کے اثرات کوکم کرنے کیلئے اٹھائے جانیوالے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔انہوں نے کہاکہ وبا کے دنوں میں پاکستان کی حکومت نے سمارٹ لاک ڈائون کاتصورمتعارف کرایا جس کا مقصد بیماری کے پھیلائو کوروکنے کے ساتھ ساتھ قومی معیشت کوفعال رکھنا ہے۔پاکستان کی جانب سے سمارٹ لاک ڈائون کے طریقہ کارکی پوری دنیانے تائید کی ہے، سمارٹ لاک ڈائون میں کئی کاروباروں کو دوبارہ کھولنے یا محدود پیمانے پرکام جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ مشکل وقت میں مضرمعاشی اثرات کو کم کیا جاسکے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی حکومت نے 1 کروڑ 50 لاکھ خاندانوں کواحساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے ذریعہ نقدمعاونت فراہم کی۔

وبا کے عرصہ میں معیشت کی بحالی کے عمل کوتیز کرنے کیلئے حکومت نے اقدامات اٹھائے، چھوٹے اوردرمیانہ درجہ کے کاروبارکو معاونت فراہم کی گئی تاکہ اس شعبہ میں کیش کامسئلہ نہ ہواوریہاں پرکام کرنے والے افراد کے روزگارکوتحفظ فراہم کیا جاسکے،اسی طرح تعمیرات کے شعبہ کیلئے خصوصی پیکج کا اعلان کیاگیا جس میں ایمنسٹی سکیم ، ٹیکس استثنیٰ اور33 ارب روپے کازراعانت شامل ہیں، اس کا مقصد ملکی معیشت میں تیرترحرکت پذیری لانا ہے، انہوں نے کہاکہ پاکستان کی معیشت میں ابھاردیکھنے میں آرہاہے، مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ترسیلات زراوربراہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہواہے، حکومت موثرپالیسی سازی اورمبنی برہدف اصلاحات کے ذریعہ معیشت کی مبادیات کودرست کرنے میں پرعزم ہے، ہماراہدف پائیدارترقی کا حصول ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں