نیویارک ٹائمز کی رپورٹ 31

بھارتی جبر و استبداد کی انتہا، کشمیری شعرا کی آوازیں بھی دم توڑ رہی ہیں، نیویارک ٹائمز کی رپورٹ

نیویارک : بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں بھارتی جبر و استبداد اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اب کشمیری شعرا ئ کی آوازیں بھی دم توڑ رہی ہیں ۔

یہ بات معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہی ہے۔اخبار نے درجن بھر کشمیری شعرا ئ کے انٹرویو کرنے کے بعد تیار کی گئی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے ان کی اس قدر سخت نگرانی کی جارہی ہے کہ وہ یا تو مزاحمتی شاعری کی تخلیق ترک کرنے پر مجبور ہیں یا پھر اپنے شعر ایسے مقامات پر ہی سنا سکتے ہیں جہاں بھارتی خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی نظریں ان کا تعاقب نہ کر رہی ہوں۔

بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے علاقے بلہامہ سے نیویارک ٹائمز کے نام نگار سمیر یاسر نے بتایا کہ علاقے میں بڑی تعداد میں تعینات بھارتی فوجیوں نے کشمیری مسلمانوں کی نگرانی انتہائی سخت کر دی ہے اور اس مقصد کے لئے دو سال قبل مزید فوجی دستے علاقے میں تعینات کئے ہیں۔

اخبار کے مطابق کشمیری شاعر غلام محمد بھٹ جو مدہوش بھٹ کے قلمی نام سے لکھتے ہیں سخت بھارتی نگرانی کے باعث اپنے کالام کی تخلیق اور اسے سنانے کا عمل انتہائی خفیہ کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عشرے کے وسط تک وہ مجاہدین کے جنازوں کے اجتماعات میں اپنی نظمیں سناتے تھے لیکن اب وہ ایسا نہیں کر سکتے ۔

انہوں نے بتایا کہ مجاہدین کے جنازوں کے اجتماعات میں اپنی نظمیں پڑھنے کی پاداش میں ان کومقامی حکام نے حراستی مراکز میں قید رکھا تاہم وہ وہاں بھی اپنے ساتھی قیدیوں کو اپنی نظمیں سناتے رہے۔

انہوں نے بتایا کہ حراستی مرکز میں قیدیوں کو ان کی کلائیوں میں رسیاں ڈال کر لٹکا دیا جاتا تھا اور ان کو ہائی وولٹیج بلبوں کی طرف دیکھنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جو جبر بھارتی حکومت کی طرف سے اب روا رکھا جا رہا ہے ایسا جبر انہوں نے گزشتہ تیس سال کے دوران نہیں دیکھا۔ اور اس جبر کے نتیجہ میں اب ہر طرف خاموشی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ہمارے موجود بحران کا بہتریں حل خاموشی ہی ہے۔

بھارتی جبر نے ان کشمیری شاعروں کی آواز کو بھی خاموش کر دیا ہے جو کشمیر میں صدیوں سے جاری شعر گوئی کی روایت کے امین تھے۔

مدہوش بھٹ نے بتایا کہ 2018 میں بھارتی فوجیوں اور حریت پسندوں کے درمیان جھڑپ کے دوران ان کا گھر نظر آتش کر دیا گیا جو ان کی آنکھوں کے سامنے جل کر خاکستر ہوگیا اور اس میں تقریباً ایک ہزار صفحات جن پر ان کے اشعار لکھے تھے وہ بھی جل کر خاک ہو گئے۔

اس وقت انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے ان کا جسم بھی اس آگ میں جل گیا ہو۔انہوں نے بتایا کہ پولیس کئی بار انہیں طلب کر کے ان سے پوچھ گچھ کر چکی ہے جس کا کہنا ہے کہ ان کے اشعار تفریق کو ہوا دیتے ہیں اس لئے اب وہ اپنے اشعار اب کسی کو نہیں سناتے۔ مدہوش بھٹ نے کہا کہ اس زمانے میں خاموشی ہی بہتر ہے۔

دریا کنارے بیٹھے خوفزدہ مدہوش بھٹ نے کہا کہ ہمارے ہاتھوں میں لرزش نہیں لیکن ذہن شعر کہنے پر آمادہ نہیں۔ بھارت نے بڑی حد تک ہماری آواز کو خاموش کروا دیا ہے لیکن ہمارے دلوں میں آزادی کی تڑپ باقی رہے گی، یہ ختم نہیں ہو سکتی۔ نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں مزید بتایا کہ پولیس نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرنے پر کم از کم تین کشمیری شعرا سے حال ہی میں گھنٹوں پوچھ گچھ کی۔

کشمیر شاعرہ زبیرہ نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ ہمیں اس وقت تک سانس بھی لینے کی اجازت نہیں جب تک ہم بھارتی حکومت کے قوانین اور اس کی خواہش کے مطابق سانس نہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خاموش کرایا جاتا ہے، آزادی اظہار اور داد رسی سب کچھ ختم ہو چکا ہے اور ہر طرف گھٹن ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب ان کی شاعری کے موضوعات ان کے علاقے میں قائم فوجی چوکیاں، ان میں موجود لاتعداد بھارتی فوجی اور سڑکوں پر کھڑی کی گئی لاتعداد رکاوٹیں ہیں اور وہ انہی موضوعات پر شعر کہتی ہیں۔ بھارت میں حکمران جماعت بی جے پی کے ایک مقامی راہنما نرمل سنگھ نے اس صورتحال پر تبصرہ میں کہا کہ بھارتی حکام علیحدگی پسندوں کی سرگرمیوں پر پابندی لگانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے خبر دار کیا کہ شعرا ئ سمیت کسی کو بھی بھارت کی علاقائی سالمیت پر سوال اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے صحافیوں کو ہدایات جاری کی جاتی ہیں کہ وہ کیا لکھیں اور کیا نہ لکھیں اور ان میں سے کچھ پرتو ملک سے باہر جانے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

پولیس جموں و کشمیر کی صورتحا ل بارے ٹویٹ کرنے والے صحافیوں کے خلاف دہشت گردی کے الزامات عائد کرنے کی دھمکیاں دیتی ہے۔ 2019 سے اب تک 2300 سے زیادہ افراد کو دہشت گردی کے قوانین کے تحت جیل میں ڈالا جا چکا ہے۔ان قوانین کے تحت نعرے لگانے اور سوشل میڈیا پر سیاسی پیغامات پوسٹ کرنے جیسی سرگرمیوں کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں پولیس پرامن احتجاج کو بھی فوری طور پر روک دیتی ہے۔ بھارتی کریک ڈائون کے دو سال مکمل ہونے کے موقع پر 5 اگست کو کئی کشمیری دکانداروں نے اپنی دکانیں احتجاجاً بند رکھیں۔اس موقع پر سرینگر میں سادہ کپڑوں میں ملبوس مسلح افراد نے دکانداروں کو دکانیں کھولنے پر مجبور کرنے کی غرض سے سریئے اور لوہا کاٹنے والے بلیڈز سے دکانوں کے تالے کاٹنا شروع کر دیئے۔

پولیس نے اس موقع پر موجود ہونے کے باوجود دکانوں کے تالے توڑنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔اس موقع پر ایک صحافی کے سوال پر پولیس اہلکاروں نے کہا کہ وہ وہاں دکانداروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے موجود ہیں جبکہ ایک پولیس اہلکار نے صحافیوں کو وہاں سے ہٹا دیا۔

کشمیری شاعری اپنے بھرپور تاریخی ورثے، برف پوش چوٹیوں، رنگ بکھیرتی جھیلوں اور نظر کو خیرہ کرتے پھولوں کے باغات کی عکاس ہے۔نیویارک ٹائمز کے مطابق علاقے میں حریت پسندوں کی پرتشدد کارروائیوں میں اگرچہ کمی آچکی ہے تاہم ان کو عوام کی ایک بڑی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2019 میں پلوامہ میں درجنوں بھارتی فوجیوں کے مارے جانے کے بعد علاقے میں صورتحال اس قدر مایوس کن ہو گئی کہ کشمیری شاعر ذیشان جے پوری نے اس پر اپنی تشویش پر مبنی نظم سرینگر کے قریب ایک قلعے کے کھنڈرات میں بیٹھ کو اپنے دوستوں کو سنائی ۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ذیشان جے پوری جن کے دادا بھی ایک معروف شاعر تھے نے بتایا کہ پولیس کی طرف سے پھینکے گئے آنسو گیس کے گولے کے پھٹنے سے اپنے 17 سالہ پڑوسی کی موت کے بعد انہیں اپنی ان درسی کتابوں سے نفرت ہو گئی جن میں ان کے علاقے کو ایک خوشگوار سیاحتی مقام بتایا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سالوں کے دوران کشمیری شاعروں اور دیکر فنکاروں کا اپنے فن اور جذبات کے اظہار میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب ہم اپنے شعر خود کو ہی یا اپنے چند قریبی دوستوں کو سنا سکتے ہیں۔ حکومت ہمیں تازہ ہوا میں سانس نہیں لینے دیتی اور ہماری آواز دبانے کے لئے ہمارا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں