Chief Minister of Sindh laments the increase in Corona rate 15

وزیر اعلیٰ سندھ کا کورونا شرح بڑھنے کا واویلا، عوام نے ہوٹل کے باہر ایس اوپیز کی دھجیاں اڑا دی

کراچی : کہاں کا ماسک، کیسا فاصلہ، کیسی احتیاط، کون سی سنجیدگی؟ کراچی کے ریسٹورنٹس کے باہر ہجوم نے کورونا ایس او پیز کو قرنطینہ میں بھیج دیا۔ انتظامیہ کب ذمے داری نبھائے گی، کس ادارے سے ایس او پیز پر عمل کرائے گی، کیسے ان کی زندگیاں بچائے گی،

کراچی کی مصروف ترین فوڈ اسٹریٹ برنس روڈپر کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے، نہ لوگوں نے ماسک لگائے ہوئے ہیں اور نہ ہی فاصلے کا خیال رکھا جا رہا ہے۔کراچی کے علاقے بوٹ بیسن پر بھی کھانا کھانے کے لیے آنے والے لوگ ایس او پیز کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہورہے ہیں، کچھ لوگوں نے تو کورونا کی حقیقت سے ہی انکار کر دیا ہے۔

کراچی میں کورونا کیسز کی شرح خطرناک حد تک زیادہ ہے لیکن حکومت کی جانب سے بار بار انتباہ کے باوجود شہری احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کو تیار نہیں، شہر کے مرکزی بازاروں کی صورتحال بھی زیادہ اچھی نہیں مگر معروف فوڈ اسٹریٹس کی بات کریں تو افطار کے بعد وہاں کا نظارہ رونگٹے کھڑے کرنے کیلئے کافی ہے۔

ریسٹورنٹ مالکان ہوں یا شہری، نہ ہی ماسک پہنا جارہا ہے، نہ ہی سماجی فاصلے کا خیال رکھا جارہا ہے۔ لوگوں کی اکثریت یہی بہانہ بناتی نظر آتی ہے کہ کھانا کھاتے وقت ماسک کیسے پہنیں۔بوٹ بیسن کا شمار ایسی فوڈ اسٹریٹ میں کیا جاتا ہے جہاں صحت و صفائی کا خیال رکھنے والے لوگ آتے ہیں مگر کرونا ایس او پیز کا خیال یہاں بھی نہیں رکھا جارہا۔

سرکاری اعدادشمار کے مطابق کرونا کیسز کے لحاظ سے کراچی سندھ کا سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے۔ شہریوں کی بے احتیاطی کا یہی عالم رہا تو ممکن ہے حکومت کو کراچی میں ایک بار پھر مکمل لاک ڈاؤن لگانا پڑے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں