انتخابات ووٹر اور گدھا 14

انتخابات ووٹر اور گدھا

پاکستانی قوم چوہتر سالوں سے بیشتر انتخابات میں ووٹ ڈالتی رہی ھے جس میں قومی و صوبائی انتخابات کے علاوہ بلدیاتی انتخابات بھی شامل ہیں۔ اکہتر کی جنگ کے بعد سے اگر جائزہ لیں تو ھم سب سے پہلے وہ عرصہ حذف کریں گے جس میں جنرل ریٹائرڈ ضیاء الحق شہید کا مارشل لا اور جنرل پرویز مشرف کا ایمرجنسی دور۔ کہا جاتا ھے کہ یہ جنرلز محب وطن ایماندار سچے بہادر نڈر رہے ہیں مگر فیصلہ سازی میں کچھ ایسی کوتاہی وارد ھوئیں جو انکی خوبیوں کو ابھار نہ سکیں لیکن اگر دیکھا جائے تو پرویز مشرف کے بعد سے تاحال جمہوریت کا نظام جاری و ساری رھا۔ جنرل پرویز مشرف کے بعد صوبے سندھ اور وفاق میں مکمل آب و تاب مکمل اختیارات مکمل دسترست کیساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت رہی۔

سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ تھے جبکہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ اشرف تھے اور صدارت کے منصب پر آصف علی زرداری برجمان ھوئے اپنے اقتدار میں آٹھارہ ویں ترمیم کرکے اشرفیہ کو قانونی تحفظات کی چھتری مہیا کردی۔ان کے بعد پاکستان مسلم لیگ نون یعنی میاں نواز شریف نے بھی مکمل پانچ سال بڑے سکون سے گزارے گویا کالا سفید کریں کوئی پوچھنے والا نہیں پھر سن دو ہزار اٹھارہ میں الیکشن ھوئے تو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ھوئی ابتک ان کے تین سال بیت گئے ہیں بھیک کا رواج بڑھ گیا لیکن سفید پوش عوام بری طرح رل گئے اس کی سب سے بڑی وجہ بد انتظامی و مہنگائی بتائی جاتی ھے۔ ماہرین معاشیات و اقتصادیات کے علاوہ سیاسی محققین وزیراعظم عمران خان کے دور کو عوام کیلئے اذیت ترین قرار دے رہے ہیں اور عوامی حلقوں کا شکوہ ھے کہ اگر سابق حکمرانوں نے قومی خذانے کو لوٹا تو الٹا لٹکاتے ھوئے عمران خان کے ہاتھ پاؤں کیوں کانپ رھے ہیں بیشتر کہہ چکے ہیں کہ یہ سب کے سب پاکستان بھر کے سیاستدان الو بناتے چلے آرھے ہیں اور اب گدھے تک بات جا پہنچی۔

معزز قارئین!! اپنی کالم کو بڑھاتے ہوئے ایک حقیقت آپکی نظر پیش کرنے کی جسارت چاہتا ھوں وہ یہ کہ ایک سیاستدان ووٹ مانگنے کیلئے ایک بوڑھے آدمی کے پاس گیا اور انہیں ہزار روپئے پکڑاتے ہوئے کہا “بابا جی اس بار ووٹ مجھے دیں” بابا جی نے کہا:
” بیٹا مجھے پیسہ نہیں چاہیئے پر تمہیں ووٹ چاہیئے تو ایک گدھا خرید کے لا دو”سیاستدان کو ووٹ چاہیئے تھا وہ گدھا خریدنے نکلا مگر کہیں بھی اسی نوے ہزار سے کم قیمت کوئی گدھا نہیں ملا تو واپس آکر بابا جی سے بولا “مجھے مناسب قیمت پر کوئی گدھا نہیں ملا گدھا کم سے کم اسی ہزار کا ھے اس لیئے میں آپ کو گدھا تونہیں دے سکتا پر یہ ہزار روپےدے سکتا ھوں”بابا جی نے کہا:
“بیٹا اور شرمندہ نا کرو تمہاری نظر میں میری قیمت گدھے سے بھی کم ھے۔ جب گدھا اسی ہزار روپے سے کم میں نہیں بکا تو میں ہزار روپے میں کیسے بک سکتا ھوں”۔۔

معزز قارئین!! اس لئے اس دفعہ بلدیاتی الیکشن میں سوچ سمجھ کر ووٹ دیجیئے گا۔ اپنی آور اپنے ووٹ کی قدر کروائیں خدارا خدرا خدارا پیپسی برگر یا بریانی کی پلیٹ پر ضمیر فروخت مت کیجئے۔ ووٹ امانت ھے اور امانت کے بارے میں یقیناً روز قیامت بازپرس ضرور ہوگی’ الله مجھ سمیت میری قوم کو عقل و شعور اور ووٹ کی اہمیت سمجھنے کی ہدایت بخش دے آمین ۔۔۔۔۔!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں