Foreign office 16

پاکستان کا یوم شہداءکشمیر کے موقع پر کشمیریوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد ۔ (ویب ڈیسک)(اے پی پی ) پاکستان نے یوم شہداءکشمیر کے موقع پر کشمیریوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ پاکستانی حکومت اور عوام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت کے حصول تک کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ پیر کو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستانی حکومت اور عوام نے 89ویں یوم شہداءکشمیر کے موقع پر لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پوری دنیا میں کشمیریوں کے ساتھ مل کر ان 22 بیگناہ اور نہتے کشمیریوں ۔کو خراج عقیدت پیش کیا ہے

جو 1931ءمیں ڈوگرہ فورس کے ظلم و بربریت کے خلاف حق اور انصاف کےلئے اٹھ کھڑے ہوئے، ان کی غیر معمولی ہمت اور قربانی نے کشمیریوں کیلئے حق خود ارادیت کے حصول کی غرض سے جرا¿ت مندانہ جدوجہد کے راستے کا تعین کر دیا جو آج بھی جاری ہے۔

ڈوگرہ فورس سے کم وحشیانہ بھارتی قابض فورسز نے ڈوگرہ فورسز کے مظالم سے بھی تجاوز کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں لاکھوں خاندانوں کو شہید اور شدید زخمی کیا ہے لیکن اس کے باوجود وہ کشمیریوں کے ولولوں اور آزادی کے عزم کو توڑنے میں ناکام رہے ہیں۔ 5 اگست 2019ءکو بھارت کی غیر قانونی اور یکطرفہ کارروائیوں کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی علیحدہ شناخت کو مٹانا ہے جس نے کشمیریوں کی آزادی اور حق خودارادیت کی جدوجہد کو مزید تقویت بخشی ہے۔

آر ایس ایس۔بی جے پی حکومت نے ”ہندوتوا“ نظریہ کی پیروی کرتے ہوئے ایک اور قابل مذمت قدم اٹھاتے ہوئے رواں سال مقبوضہ جموں و کشمیر میں یوم شہداءکشمیر کے موقع پر علاقائی عام تعطیل کو ختم کر دیا جو 1948ءسے منایا جا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری احتجاج کر رہے ہیں کہ ایسا پہلی بار ہو گا

جب خواجہ نقشبند مزار کے احاطہ کے اندر نوہٹہ سری نگر میں شہداءقبرستان میں کوئی سرکاری گارڈ آف آنر نہیں ہو گا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور کشمیری کشمیری شہداءکا دل کی گہرائیوں سے احترام کرتے ہیں جنہوں نے اپنی عظیم قربانیوں سے مسئلہ کشمیری کو تقویت بخشی ہے ۔

سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے پیر کو مظفرآباد، آزاد جموں و کشمیر میں شہداءکو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی ریاستی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے سمیت بھارت کو ماورائے عدالت قتل و غارت گری اورکشمیری عوام پر ظلم و جبر روکنے کےلئے عملی اقدامات کرے۔ کشمیری عوام کے خلاف ناقابل بیان جرائم کےلئے بھارت کا احتساب ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں