scandal 22

عدالت العالیہ آزادکشمیرنے میگاریلیف سیکنڈل کافیصلہ سنادیا

مظفرآباد(ویب ڈسیک)عدالت العالیہ آزادکشمیرنے میگاریلیف سیکنڈل کافیصلہ سنادیا،ذخیرہ اندوزہونے والے سامان کے لئے عدالت العالیہ نے ایس ایس پی عرفان سلیم کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیاتھا،کمیشن کی رپورٹ آنے کے بعدمتنازعہ مال کے مالک ہونے کے دعویداربلال نامی شخص نے عدالت العالیہ میں درخواست دائرکررکھی تھی

کہ یہ مال اس کا خریدکردہ ہے۔جبکہ دوسری جانب مختلف سیاسی وسماجی شخصیات نے عدالت العالیہ میں رٹ پٹیشنز دائرکررکھی تھیں۔جس میں موقف اختیارکیاگیاتھاکہ یہ مال کروناریلیف کے سلسلہ میں مستحقین میں تقسیم کرنے کے لیے لایاگیاہے۔

جسے بلال نامی شخص جعل سازی سے اپنی ملکیت ظاہرکررہاہے۔کمیشن کی رپورٹ کے بعدعدالت العالیہ نے اپنے فیصلے میں قراردیاہے کہ یہ مال ریلیف کاہے جسے انتظامیہ تحت ضابطہ مستحقین میں تقسیم کرے۔رٹ پٹیشن فرخ ممتازبنا آزادحکومت سنٹرل بارایسوسی ایشن کی جانب سے دائرکردہ رٹ پٹیشن میں بھی یہی موقف اختیارکیاگیاتھاکہ مذکورہ مال کو مستحقین میں تقسیم کیاجائے۔

سنٹرل بارکی جانب سے ناصرمسعودمغل ایڈووکیٹ رٹ پٹیشن میں سہیل اقبال اعوان ایڈووکیٹ علی نقوی ایڈووکیٹ ،راجہ فیاض ایڈووکیٹ اور وحیدبشیراعوان ایڈووکیٹ نے مقدمہ کی پیروی کی جبکہ صحافیوں کے جانب سے سابق صدر سنٹرل پریس کلب واحد اقبال بٹ،پی ٹی آئی راہنمازین کھوکھراوردیگربطورپٹیشنرزشامل تھے

۔یادرہے کہ ذخیرہ اندوزی کی سب سے پہلے اطلاع روزنامہ کشمیرلنک کے رپورٹرایل بی فاروقی،راجہ خالد جبکہ سول سوسائٹی کی جانب سے سیاسی وسماجی راہنماابوبکرنے ضلعی انتظامیہ کودی تھی۔کیس کی سماعت جسٹس صداقت حسین راجہ نے کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں