آزاد کشمیرآج کا اخبارفیچر کالمز

کشمیر کہانی

کلدیپ نئیر اپنی کتاب Beyond the Lines میں لکھتے ہیں کہ تقسیم ہند کے وقت … مختلف ریاستوں کے پاکستان یا بھارت سے الحاق کا مسئلہ تھا ۔ زیادہ مسئلہ … حیدرآباد دکن ، جونا گڑھ اور کشمیر کا تھا ۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے نہرو وغیرہ کے سامنے یہ تجویز رکھی تھی کہ کشمیر پاکستان کو دے کے اس سے بدلے میں حیدرآباد دکن اور جونا گڑھ مانگے جائیں ۔ایسے میں قائد اعظم کہتے تھے کہ کشمیر تو ہمارا ہے ہی ، ہم نے جونا گڑھ اور حیدرآباد دکن بھی لینے ہیں . بات لمبی ہوتی گئی اور پھر کشمیر پہ لشکر کشی ہو گئی ۔گلگت سمیت آزاد کشمیر کا بڑا حصہ پاکستان کے پاس تھا جب کہ جموں ، وادی کشمیر اور لداخ انڈیا کے پاس تھا۔
میں یہ نہیں کہتا کہ یہ سب باتیں درست ہیں لیکن یہ تصویر کا دوسرا رخ ہے جو ایک بہت ہی سینئر اورنسبتا غیر جانبدار بھارتی صحافی نے دکھایا ہے .

ایک اور آرگومنٹ ہے کہ پاکستان کہتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے . انہی قراردادوں میں لکھا ہوا ہے کہ پاکستان نے پہلے حملہ کیا تھا ۔ اس کی فوج اور قبائل پہلے کشمیر سے نکلیں ۔ تھوڑی بہت انڈین آرمی امن و امان کے لئے کشمیر میں رہے گی اور پھر ریفرنڈم ہو گا۔ پاکستان نے کشمیر سے فوج نہیں نکالی . نہ پاکستان نے فوج نکالی اور نہ پھر انڈیا نے فوج نکالی ۔گل مک گئی۔

میں یہ نہیں کہتا کہ اوپر بیان کیا گیا آرگومنٹ درست ہے . ہو سکتا ہے درست ہو ، ہو سکتا ہے نہ ہو لیکن بہت سے لوگ اس بات کو مانتے ہیں ۔اکہتر کی جنگ ہوئی جس کے بعد معاہدہ شملہ ہوا اور پاکستان انڈیا نے واضح طور پہ اتفاق کیا کہ آئندہ ہم اپنے معاملات آپس میں ہی نپٹائیں گے . اس وجہ سے اقوام متحدہ کی قراردادیں متروک ہوئیں کیونکہ نیا معاہدہ ہو چکا . چند سال پہلے تک کلدیپ نئیر یہ لکھتے رہے کہ اب معاہدہ شملہ کو بھی پینتالیس سال سے زیادہ ہو چکا اس وقت پوزیشن یہ ہے کہ معاہدہ شملہ اور اقوام متحدہ کی قراردادیں … یہ دونوں ہی متروک ہو چکے ہیں . اس مسئلہ کے حل کے لئے کوئی آوٹ آف دی باکس SOLUTION نکالنا ہو گا۔
عمران خان اپنی کتاب … میں اور میرا پاکستان میں لکھتے ہیں کہ … کارگل ایڈونچر کی وجہ سے کشمیر کی تحریک آزادی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ پاکستان کی پوری لائٹ ناردرن انفنٹری وہاں ٹائیگر ہلز وغیرہ پہ شہید ہو گئی۔

کارگل آج سے بیس سال پہلے ہوا تھا تب بھی پوری انٹرنیشنل کمیونٹی انڈیا کے ساتھ جا کے کھڑی ہو گئی تھی اور سب نے پاکستان کو آنکھیں دکھائی تھیں کہ اپنی فوج کارگل سے نکالو حالانکہ اس وقت پاکستان آج کی نسبتاً بہت بہتر ملک ہوا کرتا تھا ۔ اب تو پاکستان بہت کمزور ہو چکا ۔ 1999ء کے کارگل ایشو کے دوران …. شروع میں جنرل مشرف وغیرہ کہتے تھے کہ جی ہماری فوج وہاں ہے ہی نہیں وہاں تو کشمیری مجاہدین ہیں لیکن بعد میں پوری دنیا کو پتا لگ گیا کہ وہاں ریگولر پاکستانی آرمی لڑ رہی تھی ۔ کارگل کی وجہ سے پاکستان کی بدنامی ہوئی ۔کشمیر کا مسئلہ بہت زیادہ خراب ہو گیا ۔ جرنیلوں نے پہلے ایڈونچر کر لیا اور بعد میں دنیا کے سامنے نواز شریف کو کر دیا ۔ اس سارے ایڈونچر میں نواز شریف سب سے بڑے LOSER تھے . ان کو امریکہ کے آگے کر دیا گیا کہ جائیں جا کے معاملات طے کریں ۔ اور یہ کام بہت ہی مشکل تھا ۔ ساری دنیا پاکستان کے خلاف ہوگئی تھی ۔ جنگی معاملات پیدا جرنیلوں نے کئے اور بھگتنا نواز شریف کو پڑا ۔ کارگل ایشو آخر کار نواز شریف حکومت کے خاتمے کا سبب بنا۔

پاکستانی عوام کا ایک مسئلہ ہے کہ ان کی یاد داشت بہت کمزور ہے لیکن میری یادداشت کمزور نہیں ۔مجھے سب کے انٹرویو یاد رہ جاتے ہیں ۔ ایک انٹرویو عمران خان نے 19 مارچ 2010ء کو آج ٹی وی پر ندیم ملک کو دیا تھا اور اس انٹرویو میں عمران خان نے جہادی تنظیموں پہ کھل کے تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا کے کون سے مہذب ملک میں ملیٹنٹ آرگنائزیشنز ہوتی ہیں؟ عمران خان نے تب دبے الفاظ میں یہ کہا تھا کہ عسکریت پسندی سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچا ہے ۔

یہی بات یٰسین ملک نے کئی دفعہ کھلے عام کہی کہ کشمیر کی تحریک آزادی کو عسکریت پسندی کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان ہوا ۔ یاد رہے کہ یٰسین ملک خود بھی اسی کی دہائی میں ملیٹنٹ ہوا کرتے تھے . بعد میں انہوں نے بندوق رکھ کے سیاسی جدوجہد شروع کی ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کا مسلہ ، صرف سیاست کی میز پہ ہی حل ہو سکتا ہے ۔ اس بات کی سینس بھی بنتی ہے۔ آپ کا ہمسایہ ہے جو بہت تگڑا ہے . آپ کا اس سے مسئلہ چل رہا ہے لیکن آپ کہ رہے ہیں کہ ہم نے اس سے بات چیت سے مسئلہ حل نہیں کرنا بلکہ اس کے منہ پہ چنڈیں مار کے اپنی بدمعاشی کی دھونس بھی جمانی ہے اور علاقہ بھی لینا ہے ۔ بھیا اگر ایسے کرو گے … تو سامنے والا اگر کچھ مسلئہ حل کرنے کی نیت رکھتا بھی ہو گا تو وہ آپ سے سیدھا ہو جائے گا کہ آ جاؤ . پہلے تمہارا لڑنے کا شوق پورا کر دیتا ہوں ۔ دنیا نائن الیون کے بعد بدل گئی تھی اور اس کی بازگشت کل بھی ہم نے سنی جب مودی اور ٹرمپ نے ایک ساتھ مل کے کہا کہ اسلامی ٹیررازم سے ہم مل کے لڑیں گے .

اس وقت جو حالت ہے انڈیا کی اپوزیشن … اقوام عالم کے سامنے ، پاکستان سے بہت بہتر ہے . ساری دنیا سمجھتی ہے کہ پاکستانی حکمران جھوٹ بولتے ہیں . کہتے کچھ ہیں کرتے کچھ ہیں ،منافق ہیں ،نااہل اور کرپٹ ہیں . دنیا کو یہ بھی پتہ ہے کہ پاکستانی حکمران اپنے عوام سے مخلص نہیں تو دوسرے ممالک سے کیا مخلص ہوں گے ۔

امت مسلمہ ایک بالکل متروک شدہ کانسپٹ ہے ۔ اپنے ارد گرد دیکھیں ۔ مفاد کی خاطر بھائی بھائی کا دشمن بن جاتا ہے . تو آپ کیوں مسلم امہ سے امید لگا کے بیٹھے ہیں کہ وہ آپ کو صرف اس وجہ سے اقوام عالم کے سامنے سپورٹ کرے کہ آپ کا اور ان کا مذہب ایک ہے .مسلم ممالک ہوں یا غیر مسلم ممالک … وہ یہ دیکھیں گے کہ آپ ان کے لئے کیا کر سکتے ہیں ۔ اگر ان کا آپ سے مفاد وابستہ نہیں ہے ، اگر آپ ان کے کام کے نہیں ، اگر آپ کی اوقات اتنی ہے کہ ان سے ہر ٹائم آپ مانگتے رہتے ہیں … تو وہ کیوں آپ کو سپورٹ کریں گے ؟ آپ کے سامنے آپ کا ہمسایہ ہے جس سے ان کا مفاد وابستہ ہے ۔ وہ اس کے ساتھ جاتے ہیں ۔ اور ہمارا میڈیا … جتنا زیادہ اس ٹائم میڈیا جھوٹ بول رہا ہے اتنا کوئی اور جھوٹ نہیں بولتا ۔ روز نیوز کے تھمب نیل ہوتے ہیں ۔ عمران خان نے مودی کو گھٹنوں پہ گرا دیا ، مودی گڑگڑانے لگا ، پاکستان نے بڑی جیت حاصل کر لی ، یہ …وہ ….۔ یہ سب حقیقت سے بالکل الٹ ہے جو کسی نہ کسی طور پہ آپ کے سامنے آ ہی جاتی ہے ۔

بہرحال جناب … اس کالم میں کشمیر سے متعلق یہ کچھ مختلف آرگومنٹ تھے جو میں نے آپ کے سامنے رکھے . میں یہ نہیں کہتا کہ یہ غلط ہیں یا صحیح ہیں .یہ فیصلہ کرنا آپ پہ ہے ۔ ان آرگومنٹس کو عقل اور حقائق کی کسوٹی پہ رکھیں اور خود تجزیہ کریں . یہ وہ آرگمنٹس ہیں جو ہمارے میڈیا والے ہمارے سامنے نہیں پیش نہیں کرتے ۔

Artigos relacionados

Deixe um comentário

O seu endereço de e-mail não será publicado. Campos obrigatórios são marcados com *

Botão Voltar ao topo