کسی کونے میں مشرف دل میں بستا ہے 50

کسی کونے میں مشرف دل میں بستا ہے

دنیا کی سپر پاور اور اسکے ساتھ اسرائیل بمعہ نیٹو کے بہمانہ عیارانہ مکارانہ سازشوں اور پلاننگ کے بعد نائن الیون کا واقعہ ترتیب دیکر پائے تکمیل تک پہنچانا اور مسلم دنیا کو نیست و نابود کرکے ڈھا لینا یہی تو ون ورلڈ آڈر اور گریٹر اسرائیل ھے ایسے بدلتے دنیاوی حالات میں پاکستان کے پاس اس امریکی کھیل سے لاتعلق ہوکر رہنا ممکن نہیں تھا، اگر مشرف اس کھیل سے الگ رہتا تو یہ وہی مثال ہوتی کہ دشمن آپ کے گھر تک پہچنے کیلئے آپ کے پڑوس پر حملہ آور ہو اور آپ یہ سوچ کر سو جائیں کہ مجھے کچھ نہیں ہوتا تو یہ انتہائی درجے کی بیوقوفی ہے۔ جب دشمن کا نشانہ ہی آپ ہیں اور دشمن آپ کیلئے مدد بھی آپ سے مانگ رہا ہے تو آپ لاتعلق رہیں کیا یہ ممکن ہے؟ یہاں دو چیزیں بہت اہم تھیں ایک امریکہ سے اتحاد تاکہ امریکہ کے منصوبوں سے بروقت آگاہ رہا جاسکے اور دوسرا کچھ اہم مقاصد کا حصول جس پہ اتنا کہنا چاہوں گا کہ امریکہ کو روس افغان جنگ میں مصروف رکھ کر پاکستان نے اپنا ایٹمی پروگرام پورا کیا اور پھر افغانستان میں ہی امریکہ کی موجودگی سے پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر کچھ اہم اہداف حاصل کئے جو آج جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں ۔۔۔۔

معزز قارئین! امریکہ کا ایک مقصد چین کو بھی ابھرنے سے روکنا اور بھارت کو اس خطے کا دادا بنا کر بھارت کے ذریعے اس خطے پر اپنی اجاداری قائم رکھنا تھا، واضح اشارے تھے کہ چین مستقبل میں امریکہ کو معاشی و دفاعی لحاظ سے چیلنج کریگا جس سے امریکی اجاداری ہو شدید خطرہ لاحق تھا۔ جنرل پرویز مشرف نے امریکہ کے اتحاد سے قبل آخری ملاقات چینی قیادت سے ہی کی تھی جس کے اگلے دن جنرل پرویز مشرف نے امریکا کا اتحادی بننے کا اعلان کردیا، تفصیل میں نہیں جانا چاہتا لیکن اس فیصلے کے ثمرات چین تک پہنچے اور اب چین سے پاکستان مستفید ہورہا ہے.

ایک بڑا اہم سوال بھی ذہن میں آئے گا کہ ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے سپر پاور روس کی شکست دیکر ٹکڑے کیا لیکن امریکہ سے اتحاد کرلیا جبکہ اب ہم ایٹمی طاقت بھی تھے. آخر کیوں؟ اگر کسی دوست کے ذہن میں یہ سوال آیا تو یہ بہت معقول سا سوال ہے۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ روس کے وقت پاکستان نے امریکہ کو اس جنگ میں کھینچ لیا اور دو سپر پاورز کو آمنے سامنے لاکھڑا کیا، امریکہ کے ہوتے بھارت سمیت تمام مغربی ممالک پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی شرارت سے باز رہے بالخصوص بھارت جو روس کا مضبوط اتحادی تھا۔ جب امریکہ افغانستان پر حملہ آور ہوا تو حالات یکسر تبدیل تھے اور یہ جنگ روس جنگ سے انتہائی مشکل ثابت ہونے والی تھی کم از کم میرا یہ ماننا ہے کہ اس جنگ سے لاتعلقی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی۔جب امریکہ آیا تو اسوقت پاکستان اکیلا تھا نہ تو روس کا ساتھ تھا، نہ ہی چین اس وقت اس پوزیشن میں تھا کہ امریکہ کو ٹکر دیتا جبکہ مغربی طاقتیں امریکہ کیساتھ تھے اور بھارت بھی امریکہ کی گود میں بیٹھ چکا تھا جو ایک اشارے پر کوئی بھی شرارت کر گزرتا. روس کے وقت پاکستان کا مقابلہ ایک روسی ایجنسی کے جی بی سے تھا لیکن امریکہ کےوقت سی آئی اے، موساد، ایم آئی سیکس، را، این ڈی ایس، بلیک واٹر جیسی بیسیوں ایجنسیاں مقابل تھیں،

جنرل پرویز مشرف کی نیت کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب امریکہ نے انٹر سروس انٹیلیجنس آئی ایس آئی کے علاوہ کسی دوسرےایجنسی سے مدد فراہم کرنے کا کہاتھا تب جنرل پرویز مشرف نے ملٹری انٹیلیجینس ایم آئی کی پیکنگ میں انٹر سروس انٹیلیجنس آئی ایس آئی تھما دی تھی جسکا احساس امریکہ کو تب ہوا جب وہ بری طرح پھنس چکا تھا کہ جنرل مشرف انکے ساتھ ہاتھ کر گئے ہیں جو اس بات کا مظہر ہے کہ جنرل پرویز مشرف بخوبی واقف تھے کہ وہ امریکہ کے ساتھ کیا کر رہے تھے ہم جتنا بھی جذباتی کھیل کھیل لیں لیکن یہ اٹل حقیقت ہے کہ اگر جنرل پرویز مشرف حقیقی معنوں میں امریکہ کے اتحادی ہوتے تو امریکہ یہ جنگ چند سالوں میں جیت چکا ہوتا۔

یہاں کچھ دوستوں کے ذہن میں آئے گا کہ اگر ہم امریکہ کے حقیقی معنوں میں اتحادی تھے اور مشرف کا فیصلہ درست تھا تو ہمیں دہشتگردی میں نقصان کیوں اٹھانا پڑا تو معزز قارئین اگر ہم امریکہ کے اتحادی بن کر امریکی منصوبوں سے آگاہی نہ رکھتے اس سارے کھیل سے قطعِ تعلق رہتے تو جو نقصان اب ہوا ہے شاید اس سے ہزار گنا ذیادہ ہوتا اس کی وجہ یہ تھی کہ پاکستان میں تحریک طالبان کو لانچ کرنے اور سپورٹ دینے والا امریکہ ہی تھا ہم اس جنگ کا حصہ بنتے یا نہ بنتے یہ امریکی پراکسی پاکستان کے خلاف کام ضرور کرتی اس پراکسی کے ذریعے امریکہ نے اپنے مقاصد حاصل کرنا تھے جن میں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کا غیر محفوظ قرار دینا، خانہ جنگی اور پھر امن قائم کرنے کے بہانے پاکستان میں انٹری تھی۔ پاکستان نے امریکہ کا اتحادی بن کر نہ صرف ان پراکسیز کو کاؤنٹر کیا بلکہ متعدد مواقع پراسی پراکسی کے اہم مہروں کو امریکہ کے ہی ہاتھوں ڈرونز میں مروا دیا، سب سے بڑھ کر امریکی جڑوں میں گُھس کر وہ تمام منصوبے بروقت ناکام بنائے جنکا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا تھا. جنرل پرویز مشرف پاکستان کا سودا کرنا چاہتے تو ان کیلئے کچھ مشکل نہیں تھا اُس وقت وہ آل اِن آل تھے ایٹمی ہتھیاروں سے پاکستان کے تمام معاملات ۔۔

معزز قارئین!! جنرل پرویز مشرف ان باتوں کا ذکر ایک انڈین اینکر کو انٹرویو دیتے وقت کرچکے ہیں، بھارتی اینکر بار بار جنرل مشرف کا یہ بات جتانا چاہ رہا تھا کہ آپ نے امریکہ کو دھوکا دیا جبکہ جنرل مشرف اس بات کے جواب میں کہہ رہے تھے کہ آپ امریکا سے میرے تعلق خراب نہ کروائیں.جبکہ اینکر اس پہ اڑا رہا تو جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ امریکہ کو دھوکا ہم نے نہیں امریکہ نے ہر دور میں ہمیں دھوکا دیا آپ کا ساتھ دیکر اس کے بعد جنرل مشرف سنہ انیس سو سینتالیس سے سنہ انیس سو اٹھانوے میں امریکی پابندیوں اور سنہ انیس سو ننانوے میں کارگل جنگ تک حال کہہ سنایا یہ باتیں کافی تھیں جن جنرل پرویزمشرف کی ماضی کی پالیسز کی عکاسی کرنے کیلئے کہ امریکہ کو سوچ سمجھ کر گھسیٹ لائے تھے.

آج وہ بدمست ہاتھی امریکہ اپنے اتحادیوں سمیت افغانستان میں ناک رگڑ رہا ہے جس کا ذکر جنرل حمید گل مرحوم رحمتہ اللہ علیہ نے کیا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ دنیا کہے گی کہ پاکستان نے افغانستان میں امریکہ کو امریکہ کی مدد سے شکست دیدی،آج امریکیوں کے کبھی جی ایچ کیو کے پھیرے تو کبھی حکومت سے منتیں اس کے پیچھے صرف ایک شخص تھا جنرل پرویز مشرف ۔۔۔۔ ویلڈن جنرل پرویز مشرف تمہیں پاکستانی قوم سلام اور خراج تحسین پیش کرتی ھے ۔۔۔ عظیم بہادر نڈر جنرل پرویز مشرف گالیاں، طعنے اور غداری کے مقدمات کا سامنا کرکے بھی ملکی مفادات کی خاطر اپنی ذات اپنی شخصیت تباہ کرگیامگر کچھ نہیں بولا، جنرل پرویز مشرف کے جسے بولنے میں کمال حاصل تھا. جنرل پرویز مشرف کو پاکستانی قوم ہیرو سمجھتی جانتی اور مانتی ہیں اورامریکی، جنرل پرویز مشرف کو ایک چالاک اور دھوکے باز ولن کے طور پہ ہمیشہ یاد رکھیں گے۔۔۔۔۔

معزز قارئین!! ھم خوش نصیب قوم ہیں کہ ھمیں بہادر نڈر ہوشیار ذہین قابل جنرلز ملے ہیں الله پاکستان کی تاقیامت حفاظت فرمائے اور ہمیشہ دشمنوں پر غالب رکھے آمین ۔۔۔۔۔!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں