سندھ حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی 42

سندھ حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی

اٹھارہ ویں ترمیم کے بعد پاکستان کے ہر شہری کو سمجھ لینا چاہئے کہ اب ہر صوبہ خودمختار ھے اور صوبے میں کرپشن’ لوٹ مار’ بدعنوانی’ لاقانونیت’ مہنگائی’ ذخیرہ اندوزی’ ملاوٹ’ سرکاری و نیم سرکاری امور میں کرپشن و رکاوٹ’ چوری و ڈکیتی’ گینگ وار اور ٹارگٹ کلنگ’ بیروزگاری اور گداگری مافیاکا خاتمہ’ مفت اور بہترین صحت و تعلیم بہم پہنچانا گو کہ معمولی معمولی عوامی مسائل اور انکی ترجیحات کو پائے تکمیل تک پہنچانا ہر صوبے کی ذمہداری ھے۔ اب کوئی یہ نہیں کہ سکتا کہ وفاق صوبوں کے امور میں رکاوٹ بنا ھوا ھے۔ موجودہ وقت میں تین صوبے سیاسی جماعت پی ٹی آئی کے پاس ہیں اور وفاق بھی لیکن ایک صوبہ اکتالیس سالوں سے یعنی سنہ انیس سو اکہتر سے جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے دور کے علاوہ تقریباً تمام ادوار صوبہ سندھ میں حکومت مقامی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس رہی ھے اور تاحال جاری ھے۔ اس طویل دورانیہ کو بھی چھوڑ دیں سابق صدر جناب آصف زرداری کے ادوار سے سندھ کا تحقیقی احاطہ کیا جائے تو سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھی منفی صفر اعشاریہ پینتالیس فیصد صورت حال سامنے نظر آتی ھے کیونکہ ھم نے اعداد و شمار کو لیکر زمینی حقائق سے تقابلی موازنہ کیا تو ہمیں ترقی کی شرح منفی میں نظر آئی۔ عوام تو سیدھی سادھی ھے انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ہر سال تیرہ سالوں کے بجٹ میں سندھ بھر کے شہروں بشمول کراچی’ حیدرآباد’ میرپورخاص’ نوابشاہ’ لاڑکانہ اور سکھر شہر کیلئے اربوں رقم مختص کی جاتی رہیں ہیں پھر بھی جو زمینی صورتحال ھے وہ آپکے سامنے ہیں۔

یہاں میں سندھ حکومت کی بدنیتی اور ظالمانہ رویہ کو بیان کیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ انتہائی معافی کیساتھ ہائی کورٹ ہو یا سپریم کورٹ ان تمام عدالتوں کو سندھ حکومت اپنے پاؤں کی جوتی کی خاک سے بھی بدتر رکھتے ہیں اور بار ہا بار توہیں عدالت کرکے اپنے غرور و تکبر کے نفس کو تسکین پہنچاتے ہیں میں ذکر کررہا ھوں اس صوبے بھر کے سرکاری ملازمین کے گروپ انشورنس کے متعلق۔ مجھے سندھ سیکریٹریٹ کے افسر نے نام صیغہ رکھنے پر بتایا کہ چیف جسٹس گلزار احمد صاحب کے حکم نامہ کو عمل پیرا نہیں کرنا بلکہ وقت گزارتے رہنا ھے تاکہ ان کا ٹرن ختم ھوجائے تو یہ رقم سندھ اپنے پاس رکھ لے دوسری جانب چند وکلا بھاری فیس کی مد میں گروپ انشورنس کی رقم انفرادی طور پر دلا رہے ہیں جس میں سیکریٹریٹ کا عملہ بھی ملوث ھے گویا وکلا اور سیکریٹریٹ کے وارے نیارے چل رہے ہیں۔ ہمارے انہی دوست نے بتایا کہ وزیراعلیٰ بلاول بھٹو اور آصف زرداری کے حکم پر سندھ بھر کے سرکاری ملازمین کی جائز رقم گروپ انشورنس پر قدغن لگائے بیٹھے ہیں۔ سندھ کے تمام سرکاری ملازمین نے مجھ سے کہا ھے کہ کیا آصف زرداری نے اٹھارہ ویں ترمیم اسی لیئے کی تھی کہ اپنی من مانیاں’ عدل و انصاف کی دھجیاں بکھیریں اور قانون انکے سامنے بے بس لاچار برہنہ کھڑا رہے کیونکہ اٹھارہ ویں ترمیم کے بعد سے اب تک تمام امور صرف اور صرف ایوان سندھ اسمبلی اور سیاستدان کی چھتری و سائبانی کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا یقیناً یہ سندھ کی عوام کے گناہوں کی سزا ھے۔۔۔۔

معزز قرئین!! مجھے سلجھے سنجیدے جیالوں نے بتایا ھے کہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو بڑے دل کے مالک ہیں اور وہ سندھ کی قسمت بدلنا بھی چاہتے ہیں اور یہاں کے باشندوں کے جائز امور کو فوری حل کرنے میں دلچسپی لیتے ہیں مگر کیا کریں انکے اطراف ایسے منافقوں کا گھیرا ھے جو کرپشن لوٹ مار گویا طاقتور مافیا نے انہیں بے بس کررکھا ھے یہی وہ پی پی پی کے اندر مافیا ھے جس نے بی بی شہید محترمہ بینظیر کو کام کرنے نہیں دیا اس جیالے نے خدشہ ظاہر کیا کہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے اپنی آنکھیں نہ کھولیں یا پھر اس مافیا کو قابو نہ کیا تو یہی مافیا نہ صرف انکی حکومت بلکہ پی پی پی کے خاتمے کا باعث بھی بن سکتی ھے بہتر ھے کہ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کو سندھ کی ترقی فلاح و بہبود اور سرکاری و نجی اداروں کے جائز مطالبات کو منظور کرتے ھوئے انکے دلوں پر راج کرلیں۔ کراچی سمیت دیگر بڑے شہروں میں پی پی پی کی کامیابی کیلئے کہا کہ تعصب و نفرت سے نکل کر اہلیت و قابلیت کو ترجیح دیں گے تو سندھ کے تمام باسی ہمیشہ انہیں منتخب کرتے رہیں گے کیونکہ دلوں پر راج خدمات سے حاصل کیا جاتا ھے۔۔۔۔۔

معزز قارئین!! میری آصف علی زرداری کے ایسے دوستوں سے ملاقات رہی ہیں جو زندگی کے بیشتر سال ساتھ گزارے لیکن یہ وہ زرداری کے دوست ہیں جو اس کی لڑکپن اور نوجوانی کیساتھ ساتھ جوانی کی عمر کے ساتھی رہے۔ بیشتر دوستوں کا اب انتقال بھی ھوچکا ھے بحرحال آصف علی زرداری کے دوستوں کے منہ سے اس کے پیچھے پیٹھ تعریف ہی سنیں۔ یہاں یہ بھی یاد دلاتا چلوں کہ بینظیر بھٹو کیساتھ شادی میں مدعو بھی کیا تھا اور ان دستوں کو مالی و کاروباری معاونت کی بڑی کوشش کی مگر وہ دوست کبھی راضی نہ ھوئے کیونکہ وہ بہت خوددار اور عزت نفس کے مالک تھے یہی وجہ ھے کہ زرداری انہیں عزت و احترام سے آج بھی یقیناً یاد رکھے ھونگے۔ ان دوستوں نے مجھے بتایا تھا کہ آصف علی زرداری کو الله نے نہایت ذہانت اور فطین بنایا ھے اس شخص میں قوت برداشت کمال کی حد تک ھے جس سے پیار کرتا ھے تو ٹوٹ کر اور دشمنی کرتا ھے تو وہ بھی ٹوٹ کر یہ شخص صاف دل کا مالک ھے اور صاف دل کو ہی پسند کرتا ھے

اسی کی سیاست کے بارے میں بتایا کہ اندھے اعتماد کی وجہ سے موقع پرست خودغرضوں سے نا صرف پارٹی کو بلکہ آصف زرداری کو ملک گیر سیاستدان کے بجائے قوم پرست لیڈر بناکر رکھ دیا ھے انکے دوستوں کا کہنا تھا کہ کاش آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو ان منافوں کو سمجھ لیتے تو آج پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر کی طرح وفاقی سطح کے لیڈر ھوتے مگر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو اپنے نادان دوستوں کی وجہ سے سمٹ کر اندرون سندھ کے چند علاقوں تک محدود رہ گئے ہیں بحیثیت زرداری کے دوست ہمیں خطرہ ھے کہ اگر الیکشن کمیشن شفافیت اور سائنسی جدت کو اپناتے ھوئے ووٹنگ کے عمل کو مروج کرڈالا تو جو ھے وہ بھی نہ رہے گا وقت کا تقاضہ ھے کہ سندھ کے تمام باسیوں کو قانونی اخلاقی اور دینی تقاضے کے تحت حقوق دیدیئے جائیں تو اس سے عوام میں ایک جانب پیپلز پارٹی کا وژن بڑھے گا تو دوسری جانب الله بھی راضی ھوجائیگا بصورت نہ فرعون کا وجود رہا ھے نہ شداد کا اور نہ ہی یزید و شمر کا باقی نام زندہ ھے تو وہ حسین ھیں بہتر یہی ھے کہ حسینی بنیں یزید نہیں۔۔۔۔۔الله پاکستان کا حامی و ناظر رھے آمین!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں